سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 308
تعلیمی اخراجات ہیں۔اس کے متعلق کھانے پینے میں جو خرچ ہوتا ہے۔اس کا ذکر میں پہلے کہ آیا ہوں۔جو خرچ اس کے علاوہ ہیں یعنی فیس یا آلات اور ازاروں یا سٹیشنری اور کتابوں وغیرہ پر جو خرچ ہوتا ہے اس میں کمی کرنا ہمارے لیے مضر ہوگا۔اس لیے نہ تو اس میں کمی کی نصیحت کرتا ہوں اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے۔پس عام اقتصادی حالات میں تغیر کے لیے میں ان آٹھ قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہوں “ ر الفضل ۲۹ نومبر ۳ ۱۹۳۷ سینما جو اخلاقی اقدار کی تباہی کا باعث ہو رہا ہے اس کے بداثرات سے بچانے کیلئے حضور وقتاً فوقتاً اس کے بعد بھی جماعت کو نصیحت کرتے رہے۔ایک موقعہ پر حضور نے فرمایا :- " بعض لوگوں کے منہ سے یہ بات بھی نکلی ہے کہ سینما کی ممانعت دس سال کیلئے ہے۔انہیں یا درکھنا چاہیئے کہ برائی کا تعلق دس سال یا بیس سال سے نہیں ہوتا جبیں چیز میں کوئی خرابی ہو وہ کسی میعاد سے تعلق نہیں رکھتی۔اس طرح تو میں نے صرف آپ لوگوں کی عادت چھڑا دی ہے اگر میں پہلے ہی یہ کہہ دیتا کہ اس کی ہمیشہ کے لیے مانعت ہے تو بعض نوجوان جن کے ایمان کمزور تھے اس پر عمل کرنے میں تامل کرتے مگر میں نے پہلے تین سال کے لیے ممانعت کی اور جب عادت ہٹ گئی تو پھر مزید سات سال کے لیے ممانعت کردی اور اس کے بعد چونکہ عادت بالکل ہی نہیں رہے گی۔اس لیے دوست خود ہی کہیں گے کہ جہنم میں جاتے سینما۔اس پر پیسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے " رپورٹ مجلس مشاورت ص۸۵ ۱۳۹ ) اسی طرح حضور فرماتے ہیں :۔سینا کے متعلق میرا خیال ہے کہ اس زمانہ کی بدترین لعنت ہے۔اس نے سینکڑوں شریف گھرانے کے لوگوں کو گویا اور سینکڑوں شریف خاندانوں کی عورتوں کو ناچنے والی بنا دیا ہے میں ادبی رسالے وغیرہ دیکھتا رہتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ سینما کے شوقین اور اس سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے مضامین میں ایسا تمسخر ہوتا ہے اور ان کے اخلاق اور ان کا مذاق ایسا گندہ ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔سینما والوں کی عرض تو روپیہ کمانا ہے نہ کہ اخلاق سکھانا اور وہ روپیہ کمانے کے لیے ایسے لغو اور بے ہودہ فسانے اور گانے پیش کرتے ہیں کہ جو اخلاق کو سخت خراب کرنے والے ہوتے ہیں اور شرفا جب