سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 303 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 303

* کہتا ہوں آپ کے خلاف کسی نے شکایت کی تھی مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹی ہے۔فضل کریم سے مراد بھی یہی ہے کہ خُدا کہتا ہے کہ سب قسم کے کرم یعنی عزتیں تو میرے قبضہ میں ہیں۔کون آپ کو ذلیل کر سکتا ہے جبکہ میرا فضل ساتھ ہو اور شکایتیں جھوٹی ہونے سے یہ مراد ہے کہ یہ جو لوگوں نے خیال کیا کہ گویا خدا تعالیٰ ہم سے غداری کریگا اور دشمن کا حملہ کامیاب ہوگا۔یہ سب جھوٹ ہے ہمارا خدا وفادار خدا ہے اس کے خلاف سب الزام جھوٹے ہیں۔۔۔۔۔۔بہر حال ترقیات اور کامیابیوں کی بشارتیں ہیں لی ہیں۔اور انشاء اللہ تعالیٰ وہ حاصل ہو کر رہیں گی۔لیکن ان کے حصول کے لیے حسب سنت اللہ ہمیں قربانیوں کی ضرورت ہے اور حسب احکام شریعیت کچھ تدابیراختیار کرنے کی بھی۔لیکن میں نے پورے غور کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ قربانیاں بالعموم جبری اور لازمی نہ ہوں بلکہ اختیاری ہوں تاکہ ہر شخص اپنے حالات اور اخلاص کے مطابق کام کر سکے " الفضل ۱۸ نومبر ۳۳ ) جس قسم کی قربانیوں کا آپ مطالبہ کرنے والے تھے جماعت کو ان کے لیے ذہنی طور پر تیار او مستعد کو رہنے کی خاطر آپ نے تین حکم دیتے۔اس سلسلہ میں ایک حکم آپ نے یہ دیا کہ ا۔ہفتہ کے اندر اندر ہر وہ شخص جس کی کسی سے لڑائی ہو چکی ہے۔ہر وہ شخص جس کی کسی سے بول چال بند ہے ، وہ جاتے اور اپنے بھائی سے معافی مانگ کر صلح کرے۔اور اگر کوئی معاف نہیں کرتا تو اس سے لجاجت اور انکسار کے ساتھ معافی طلب کرے اور ہر قسم کا تذتل اس کے آگے اختیار کرے تاکہ اس کے دل میں رحم پیدا ہو اور وہ نبخش کو اپنے دل سے نکال دے اور الیسا ہو کہ جس وقت میں دوسرا اعلان کرنے کے لیے کھڑا ہوں اس وقت کوئی دو احمدی ایسے نہ ہوں جو آپس میں لڑے ہوئے ہوں۔اور کوئی دو احمدی ایسے نہ ہوں۔جن کی آپس میں بول چال بند ہو پیس جاؤ اور اپنے دلوں کو صاف کرو۔جاؤ اور اپنے بھائیوں سے معافی طلب کر کے متحد ہو جاؤ۔جاؤ اور ہر تفرقہ اور شقاق کو اپنے اندر سے دُور کر دو۔تب خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہاری مدد کے لیے اُتریں گے۔آسمانی فوجیں تمہارے دشمنوں سے لڑنے کے لیے نازل ہونگی اور تمہارا دشمن خدا کا دشمن سمجھا جائے گا۔۔۔۔۔۔جس شخص کو یہ خطبہ پہنچے وہ اس وقت تک سوئے نہیں جب تک کہ اس حکم پر عمل نہ کرے سوائے اسکے کہ اس کے لیے ایسا کرنا نا ممکن ہو۔مثلاً جس شخص سے لڑائی ہوئی ہو وہ گھر میں موجود نہ ہو یا اسے