سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 292 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 292

۲۹۲ جھوٹ اور افترار دنیا میں کبھی کامیاب نہیں کر سکتا " ) الفضل ۳ ستمبر ۱۹۳۵-) حضرت خلیفہ ایسے کے اس اعلان کے ساتھ ہی جماعت نے اپنے اخلاص اور ایمان کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے جذبے اور شہیت سے اپنے نام مباہلہ کے لیے جماعت کی طرف سے شامل ہونے والوں میں پیش کرنے شروع کر دیتے۔اس روح پرور ایمانی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: " ہم نے اپنی جماعت کے لوگوں کے نام طلب کئے اور کہا کہ استخارہ کر کے اپنے آپ کو پیش کریں تو اس کا ایسا اثر پیدا ہوا جو بتاتا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں میں ایمان کی مضبوطی سے قائم ہے۔تاروں کے ذریعہ شمولیت کی کئی درخواستیں آئیں۔اور ان میں لجاجت سے کہا گیا کہ انہیں شمولیت کا ضرور موقعہ دیا جائے۔اس کثرت سے درخواستیں آئیں کہ لوگ ٹوٹے پڑتے تھے۔بعض نے لکھا کہ شامل ہونے والوں کے لیے کڑی شرطیں لگائی جائیں مثلاً یہ کہ وہ دین کے لیے زندگیاں وقف کریں یا اپنی جائیدادیں وقف کر دیں اس طرح مقابلہ کرایا جائے اور پھر جو مقابلہ میں بڑھیں انہیں شامل کیا جائے الفضل ، جنوری ) دوسری طرف احرار جو اپنے الزامات کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے مختلف جیلوں اور بہانوں سے مباہلہ کے اس چیلنج کو ٹالنے کی کوشش کرنے لگے۔اتمام محبت کے طور پر اپنے چیلنج کو دہراتے ہوئے حضور نے فرمایا :- "اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اتنا یقین ہوتا کہ سمجھتے ہم بیچتے ہیں اور مباہلہ کر سکتے ہیں تو جس طرح میں نے قسم کھا کر مباہلہ کر ہی دیا ہے یہ لوگ بھی اسی طرح کیوں نہ کر دیتے وہ اخباروں میں اعلان کر رہے ہیں کہ احمدی مباہلہ سے ڈر گئے حالانکہ میں نے پہلے ہی قسم کھا لی تھی اور کیا ڈرنے والا پہلے ہی قسم کھا لیا کرتا ہے۔جو الزام وہ لگاتے تھے ان کو مدنظر رکھتے ہوتے اور ان کے مطابق الفاظ میں میں نے قسم شائع کر دی ہے تا کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مباہلہ سے ڈر گئے ہیں اسی طرح اگر وہ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آپ کو نعوذ بالله من ذلك رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل سمجھتے تھے بلکہ آپ ایمان نہ رکھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت آپ کے دل میں نہ تھی اور آپ چاہتے تھے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نعوذ باللہ من ذلک اینٹ سے اینٹ بج