سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 288
۲۸۸ نے جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانے کے لیے اس الزام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- میں سمجھتا ہوں وہ لوگ جو ہمارے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں وہ بار بار ہمارے متعلق اس اتمام کو دوہرا کر خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔کیونکہ کسی کو گالی دینے کا ایک طریق یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ دوسرے کی طرف گالی منسوب کر کے اس کا ذکر کیا جائے۔۔۔۔پس اگر یہ تصفیہ کا طریق جو میں نے بیان کیا ہے اس پر مخالف عمل نہ کریں تو میں کہوں گا ایسے اعتراض کرنے والے در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خود تک کرتے ہیں گو اپنے منہ سے نہیں بلکہ ہماری طرف ایک غلط بات منسوب کر کے " الفضل ٣ ستمبر ۱۹۳۵-) مقامات مقدسہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نسبت احمدیوں کے دلوں میں جو عقیدت واحترام ہے اسے بیان کرتے ہوئے حضور نے اپنے ولولہ انگیز بیان میں فرمایا :- خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا نا تو الگ رہا ہم تو یہ بھی پسند نہیں کر سکتے کہ خانہ کعبہ کی کسی اینٹ کو کوئی شخص بدنیتی سے اپنی انگلی بھی لگاتے اور ہمارے مکانات کھڑے رہیں۔۔۔۔۔بے شک ہمیں قادیان محبوب ہے اور بے شک ہم قادیان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قربانی کرنے کے لیے تیار ہیں مگر خُدا شاہد ہے خانہ کعبہ نہیں قادیان سے بدرجہا زیادہ محبوب ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ چاہتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ خدا وہ دن نہیں لا سکتا ، لیکن اگر خدانخواستہ کبھی وہ دن آئے کہ خا کہ عبد بھی خطرہ میں ہو اور قادیان بھی خطرہ میں ہو اور دونوں میں سے ایک کو بچایا جا سکتا ہو تو ہم ایک منٹ بھی اس مسئلہ پر غور نہیں کریں گے کہ کس کو بچایا جائے بلکہ بغیر سوچے کہہ دیں گے کہ خانہ کعبہ کو بچانا ہمارا اولین فرض ہے۔پس قادیان کو ہمیں خدا تعالیٰ کے حوالہ کر دینا چاہیئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ مکتر وہ مقدس مقام ہے جس میں وہ گھر ہے جسے خدا نے اپنا گھر قرار دیا اور مدینہ وہ بابرکت مقام ہے جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری گھر بنا۔جس کی گلیوں میں آپ چلے پھرے اور جس کی مسجد میں اس مقدس نبی نے جو سب نبیوں سے کامل نبی تھا اور سب نبیوں سے زیادہ خدا کا محبوب تھا۔نمازیں پڑھیں اور اللہ تعالیٰ