سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 263
آپ کی کشمیر سے دلچسپی اور آزادی کی تڑپ اور مسلمانوں کی بھلائی و بہبودی کی خواہش کا ایک پل آزادکشمیر کا قیام ہے۔سرداری احمدخان کو رسائی چیف پیٹی غیر حکومت آزادک شیراس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔تیم اکتو بر دار کو جوناگڑھ میں عارضی متوازی حکومت کا اعلان کیا گیا اور نواب جونا گڑھ کو معزول کیا گیا۔جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعات احمدیہ نے دیکھا کہ یہی وقت کشمیریوں کی آزادی کا ہے تو آپ نے کشمیری لیڈروں اور در کروں کو بلایا۔میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ مفتی اعظم ضیاء الدین صاحب ضیاء کو عارضی جمہوریہ کشمیر کا صدر بنایا جائے۔مگر انہوں نے انکار کیا۔۔۔۔۔۔آخر میں قرعہ خواجہ غلام نبی صاحب گل کار انور کے نام پڑا۔۲ اکتوبرکو گجرات میں ایک اور میٹنگ ہوئی جس میں غضنفر علی خان وغیرہ سے مشورہ ہوا۔بمشورہ ملک عبدالرحمان صاحب خادم گجراتی پلیڈر مسودہ تیار کیا گیا۔اس کی نقل بذریعہ ماسٹر امیر عالم صاحب کو ٹلی اور چوہدری رحیم داد صاحب ----- جناب مرزا صاحب کی خدمت میں لاہور بھیج دیا گیا۔سیلاب کی وجہ سے راولپنڈی اور لاہور کی ریل بند تھی۔مرزا صاحب نے خواجہ غلام نبی صاحب گل کار انور کو اپنے ذاتی ہوائی جہاز میں لاہور سے گوجرانوالہ بھیج دیا۔۱۳ اکتوبر کو بمقام پیرس ہوٹل متصل ریلوے پل راولپنڈی کارکنوں کی کئی میٹنگیں ہوئیں۔آخر مسودہ پاس ہو کر خواجہ غلام نبی صاحب گل کار انور کے ہاتھ سے لکھے کہ انور بانی صدر عارضی جمہور یہ حکومت کشمیر" کے نام سے ہری سنگھ کی معزولی کا اعلان ہوا۔روز نامه همارا کشمیر منظر آباد ۲ اکتوبر ۱۹۵۳) پروفیسر قریشی محمد اسحاق ایم۔اے مسلم کانفرنس کے ایک اہم عہدیدار کو شاہ کے آخرمیں کشمیر سے ریاست بدر کر دیا گیا۔سردار گل احمد خان کے مندرجہ بالا بیان کو پروفیسر صاحب مذکور کے مندرجہ ذیل بیان کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے آزادی کشمیر اور استحکام پاکستان کے لیے مساعی کے کئی اور گوشے نمایاں ہوتے ہیں۔وہ تحریر کرتے ہیں :- ۲۱ ر ستمبر سنہ میں جب مجھے تین سال کے لیے ریاست بدر کر دیا گیا تو مقام