سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 242 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 242

ستی فرمائیں گے۔۲۴۲ والسلام آپ کا تابعدار عبدالله ۵۹۷ ر تاریخ احمدیت جلد ۶ ماه ) حضور نے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور حضرت کوی عبدالرحیم صاحب درد کے علاوہ اور بھی کئی رضا کاروں کو اس کا نفرنس کی کامیابی و انعقاد کی کوشش کیلئے کشمیر بھجوایا۔حکومت نے کانفرنس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب مسٹر جار ڈین پولیٹیکل سیکرٹری سے ملے اور اسے بتایا اس طرح آزادی کی کوششیں کشمیر سے با ہر زور پکڑ جائیں گی اور بہت ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کو آگے آنے کا موقع مل جاتے جو پُر امن ذرائع پر زیادہ اعتماد نہ کرتے ہوں۔اسی روز ایک جلسہ میں یہ اعلان کیا گیا کہ حکومت کی طرف سے روک پیدا کرنے کی وجہ سے کانفرنس کا انعقاد ریاست کی حدود سے باہر سیالکوٹ میں ہو گا۔اس پر حکومت کشمیر نے شاہ صاب کو بلا کر ان سے تحریر لی کہ وہ کانفرنس میں قیام امن کے ذمہ دار ہوں گے۔گویا پہلی سلم کا نفرنس حضور کی رہنمائی میں قائم ہوئی۔حضور کے نمائندوں نے اس کا سارا انتظام کیا۔حکومت کی طرف سے پیدا ہونے والی روک کو اپنی حکمت عملی سے دور کیا۔حکومت کے ساتھ معاہدہ پر حضور کے نمائندہ نے دستخط کئے اور بالآخر کانفرنس کا انعقاد ممکن ہوا۔۱۵ سے ۱۹ اکتوبر سنہ تک یہ جلسہ ہوا اور اس میں شیخ محمد عبداللہ نے سب سے پہلے صدر آل انڈیا کشمیر کیٹی کا عزم و استقلال آفریں پیغام پڑھ کر منایا جس میں حضور نے فرمایا :- -------- برادران میں آپ کی کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں اور مجھے اُمید ہے کہ کانفرنس کی کارروائی میں سیچی حب الوطنی کے جذبہ کے ماتحت۔جرات میانہ روی۔رواداری - تشکر دانائی اور تدبر کے ذریعہ آپ ایسے نتائج پر پہنچیں گے جو آپ کے ملک کی ترقی میں بہت محمد ہوں گے اور اسلام کی شان کو دوبالا کرنے والے ہوں گے۔برادران ! میرا آپ کے لیے یہی پیغام ہے کہ جب تک انسان اپنی قوم کے مفاد کے لیے ذاتیات کو فنا نہ کر دے وہ کامیاب خدمت نہیں کر سکتا بلکہ نفاق اور انشقاق پیدا کرتا ہے۔پس اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو نفسانی خیالات کو ہمیشہ