سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 241 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 241

۲۴۱ جب بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی نے کامیابی کا منہ دیکھا تو ٹھیک اسی تاریخ کو پاکستان مسلمانوں کی آزاد مملکت کا قیام عمل میں آیا۔آل جموں و کشمیر مسلم پولیٹیکل کانفرنس کشمیر میں بعض تعلیم یافتہ نوجوان حضور کی ہدایات کے مطابق بہت اچھا کام کر رہے تھے مگر ابھی تک وہاں مسلمانوں کے حقوق و مفادات کا خیال رکھنے والی کوئی منظم سیاسی جماعت نہیں تھی۔اس ضرورت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔ایک ضروری بات میں یہ کتنی چاہتاہوں کہ مسلمانوں کی کامیابی کو دیکھ کر ہندو نے بھی ایجی ٹیشن شروع کیا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کو جو تھوڑے بہت حقوق ملے ہیں وہ بھی انہیں حاصل رہیں۔۔۔پس اس وقت ضرورت ہے کہ مسٹر عبد اللہ کی عدم موجودگی میں ایک انجمن مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت میں بنائی جائے یہ مت خیال کریں کہ بغیر اجازت کے انجمن نہیں بن سکتی۔انجمنوں کی ممانعت کا کوئی قانون دنیا کی کوئی حکومت نہیں بنا سکتی۔آخر ہندو انجمنیں بنا رہے ہیں۔آپ کی انجمن نہ خفیہ ہوگی نہ باغیانہ پھر حکومت اس بارہ میں کس طرح دخل دے گی۔میں اُمید کرتا ہوں کہ نوجوان فوراً اس طرف قدم اُٹھائیں گے اور اس ضرورت کو پورا کریں گے ورنہ سخت نقصان کا خطرہ ہے اور بعد میں پچھتانے سے کچھ نہ ہوگا؟ (مطبوعہ مکتوب بنام برادران کشمیری ) اس بر وقت مشورہ در ہنمائی کے سلسلہ میں شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے حضور کی خدمت میں لکھا: جناب حضرت میاں صاحب دام اقبالہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! میں حضور کی نوازشات کا نہ دل سے مشکور ہوں آج میں لاہور ہوتے ہوتے جموں اور پھر کشمیر واپس جا رہا ہوں۔میں ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایک پولیٹیکل کا نفرنس کشمیر میں بلا رہا ہوں۔۔۔۔اگر حضور اگست کے دوسرے ہفتہ میں کشمیر چند دن کے لیے تشریف لے آویں تو کانفرنس کے بنانے میں ہمیں بہت امداد مل سکتی ہے۔بلکہ ضرورت بھی ہے کہ حضور ابھی سے مجھے شملہ جانے اور کانفرنس کے پروگرام کے متعلق تفصیلی ہدایات و تجاویز بھیج کر میری رہنمائی فرما دیں۔مشکور ہونگا۔۔مجھے امید ہے کہ حضور آج سے کانفرنس کے کامیاب بنانے میں