سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 168 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 168

تفسیر کبیر میں ایک مقام پر میں نے پڑھا تھا کہ خلیفہ جو مصلح موعود ہوگا وہ اسیروں کی رہائی کا باعث ہوگا۔میں نے حضور سے درخواست کی کہ وہ میری رہائی کے لیے دُعا فرمائیں۔حضور خلیفہ صاحب نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی رہائی کے سامان کرے اس کے چند ہی دنوں بعد میں رہا ہو گیا۔خلیفہ موعود کی نسبت یہ پیش گوئی کہ وہ اسیروں کی رہائی کا باعث ہوگا میں اس کا زندہ ثبوت ہوں۔الفضل ۲۳ رحون ۱۹۶۲مه مشهور مفسر قرآن علامہ عبد الماجد دریا آبادی مدیر صدق جدید نے حضور کی وفات پر ایک شذرہ تحریر کیا جس میں حضور کی خدمت قرآن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- قرآن اور علوم قرآن کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سرگرمی اور الوالعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں۔ان کا اللہ انہیں صلہ دے علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح و تبیین و ترجمانی وہ کر گئے ہیں۔اس قرآنی جوتشریح وہ کر گئے ہیں۔کا بھی ایک بلند و ممتاز مرتبہ ہے؟ والا ( صدق جدید لکھنو ۱۸/ نومبر شاه ) تفسیر کبیر کے اس تعارفی مضمون کو حضور کی مندرجہ ذیل پیر در د نصیحت پر ختم کیا جاتا ہے :- ---- اسے پڑھنے والو میں آپ سے کہتا ہوں قرآن پڑھنے پڑھانے اور عمل کرنے کے لیے ہے۔پس ان نوٹوں میں اگر کوئی خوبی پاؤ تو انہیں پڑھو پڑھاؤ اور پھیلاؤ عمل کرد۔عمل کراؤ اور عمل کرنے کی ترغیب دور یہی اور یہی ایک ذریعہ اسلام کے دوبارہ احیاء کا ہے۔اسے اپنی فانی اولاد سے محبت کرنے والو اور خدا تعالیٰ سے ان کی زندگی چاہنے والو! کیا اللہ تعالٰی کی اس یادگار اور اس تحفہ کی رُوحانی زندگی کی کوشش میں حصہ نہ لو گے تم اس کو زندہ کرو۔وہ تم کو اور تمہاری نسلوں کو ہمیشہ کی زندگی بخشے گا۔اُٹھو کہ ابھی وقت ہے۔دوڑو کہ خدا کی رحمت کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں پر بھی رحم فرماتے اور مجھ پر بھی کہ ہر طرح بے ہیں۔بے کس اور پر شکستہ ہوں۔اگر مجرم بنے بغیر اس کے دین کی خدمت کر سکوں تو اس کا بڑا احسان ہوگا۔يَا سَارُ يَا غَفَّارُ ارْحَمْنِي يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ بِرَحْمَتِكَ اسْتَغِيتُ (کچھ تفسیر کبیر کے متعلق صت ) و