سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 155 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 155

۱۵۵ زندہ رہے گا۔مجھے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علوم سے بہت کچھ دیا ہے اور حق یہ ہے کہ اس میں میرے فکر یا میری کوشش کا دخل نہیں وہ صرف اس کے فضل سے ہے، مگر اس فضل کے جذب کرنے میں حضرت استاذی المکرم مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسیح اول کا بہت سا حصہ ہے۔میں چھوٹا تھا اور بیمار رہتا تھا وہ مجھے پکڑ کے اپنے پاس بٹھا لیتے تھے اور اکثر یہ فرماتے تھے کہ میاں تم کو پڑھنے میں تکلیف ہوگی میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ اور اکثر اوقات خود ہی قرآن پڑھتے۔خود ہی تفسیر بیان کرتے۔اس کے علوم کی چاٹ مجھے انہوں نے لگائی اور اس کی محبت کا شکارہ بانی سلسلہ احمدیہ نے بنایا۔بہر حال وہ عاشق قرآن تھے اور ان کا دل چاہتا تھا کہ سب قرآن پڑھیں۔مجھے قرآن کا ترجمہ پڑھایا اور پھر بخاری کا اور پھر فرمانے لگے۔لومیاں سب دُنیا کے علوم آگئے ان کے سوا جو کچھ ہے یا زائد یا ان کی تشریح ہے۔یہ بات ان کی بڑی سچی تھی۔جب تک قرآن و حدیث کے متعلق انسان کا یہ یقین نہ ہو علوم قرآنیہ سے حصہ نہیں لے سکتا تفسیر کبیر کی نمایاں خصوصیات : ( تفسیر کبیر جلد ۳ صفحه ۳-۴ ) تفسیر کبیر کی بعض نمایاں خوبیوں اور خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔" میرے نزدیک ان نوٹوں کی یہی خوبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرما کر موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے متعلق بہت کچھ انکشاف فرمایا ہے۔مگر ہر زمانہ کی ضرورت الگ ہوتی ہے اور ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق قرآن کریم میں علوم موجود ہیں جو اپنے موقع پر کھولے جاتے ہیں۔پہلے مفسرین نے اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق بہت بڑی خدمت قرآن کریم کی کی ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگر وہ دو غلطیاں نہ کرتے تو ان کی تفاسیر داتی خوبیاں رکھتیں۔1۔منافقوں کی باتوں کو جو انہوں نے مسلمانوں میں ملکر شائع کیں۔ان تفاسیر میں جگہ دے دی گئی ہے اور اس وجہ سے بعض مضامین اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لیے بنک کا موجب ہو گئے ہیں۔۲ - انہوں نے یہودی کتب پر بہت کچھ اعتبار کیا ہے۔اور ان میں سے بھی مصدقہ باتیل