سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 149
۱۴۹ وقت آگے کی طرف۔پھر ارشاد فرمایا۔آپ لوگوں نے قرآن کریم کا جو حصہ پڑھا ہے اسے ضبط کریں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش تحریں اور دوسروں سے عمل کرانے کی کوشش کریں تا کہ جو شکلات دین پر آرہی ہیں وہ دُور ہوں اور خدا تعالیٰ اپنے فضل سے دین کی ترقی کا سامان پیدا کرے اور ہماری کمزوریوں کی وجہ سے اس کے دین کو نقصان نہ پہنچے۔درس کے خاتمہ پر حضور نے دوبارہ اجتماعی دعا کروائی۔اور فرمایا کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ حضور علیہ السلام رمضان کے دنوں میں جبکہ قرآن نازل ہوتا تھا بہت صدقہ دیا کرتے تھے اس لیے میں بھی اس موقعہ پر اپنی طرف سے دس روپے بطور صدقہ دیتا ہوں اور بھی جن دوستوں کو توفیق ہو قادیان کے غربا ہ کے لیے صدقہ دیں۔اس پر قریباً دوسو روپے اسی وقت جمع ہو گئے۔آخر میں حضور نے اپنے دست مبارک درس کے امتحانات میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات عطا فرمائے“ الفضل ار ستمبر ٩لة ) سلسلہ فضائل القرآن : ۱۹۲۵ء کے جلسہ سالانہ پر حضور نے فضائل قرآن مجید کے عنوان پر ایک بلند پای لمی تقاریر شروع فرمایا۔اپنی ان چھ تقریروں میں حضور نے قرآن شریف کے انوار و محاسن مختلف پہلوؤں سے اس انداز سے بیان فرمائے کہ اس کی مثال کم ہی کہیں مل سکتی ہے۔ان تقاریر سے جہاں ایک طرف حضور کے بیان فرمودہ حقائق و معارف کا علم حاصل ہوتا ہے وہاں ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ جماعت میں قرآن مجید سے محبت اور قرآنی علوم کے حصول کے لیے رغبت پیدا ہوئی۔گویا ان تقاریر کے ذریعہ سے آپ نے خدمت قرآن کا ایک بیج بویا جو بعد میں آپ کی کامیاب خلافت کے لیے عرصہ میں پڑھتا پھلتا اور پھولتا گیا۔خصوصی درس قرآن کا اہتمام۔گھروں میں درس قرآن کی تلقین اور پھر تفسیر کبیر انگریزی ترجمه قرآن و تفسیر: دیباچه تفسیر القرآن - تفسیر صغیر اسی بیج کے شاندار پھول پھل ہیں جو قرآن کی برکت سے ہمیشہ ہی ترو تازہ رہیں گے۔انشاء اللہ ان تقاریر میں آپ نے قرآن سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مضامین بیان فرماتے۔چند عنوانات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں جو ان مضامین کی اہمیت کا کسی قدر اندازہ کرنے کے لیے محمد ہوں گے۔ضرورت قرآن