سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 119 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 119

119 اور کامل شفایابی کے بعد حضور کے بخیر و عافیت واپس آنے کے لیے اس قدر عاجزی اور الحاج سے دعائیں کر رہے تھے کہ مسجد مبارک اور قصر خلافت سے ملحقہ سارا علاقہ ہچکیوں ر سسکیوں کی درد انگیز آوازوں سے گونج رہا تھا۔اور ہر دل گواہی دے رہا تھا کہ مولا کریم اور اس کے محبوب بندوں کا یہ راز و نیاز انشاء اللہ العزیز اثر لاتے بغیر نہ رہے گا۔دُعا کے اختتام پر ہر آنکھ سے آنسو رواں تھے اور ہر فرد اپنے محبوب آقا کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بتیاب تھا۔صدقے کے طور پر بکروں کی قربانی : ٹھیک نو بجے جب حضور کی کار حرکت میں آئی تمام فضا فی امان اللہ تعالیٰ اور لسلامت روی و باز آئی کی آوازوں سے گونج اٹھی۔موٹر کے حرکت میں آتے ہی مسجد مبارک کے عقب میں صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کی طرف سے دو بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے ایک بکرا صدرانجمن کی طرف سے مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس نے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔اور دوسرا بکرا تحریک جدید کی طرف سے قائمقام وکیل اعلی جناب چوہدری غلام مرتضی صاحب نے ذبح کیا۔حضور کی کار قافلے کی دوسری کاروں کے ہمراہ آہستہ آہستہ روانہ ہوئی۔احباب جماعت جو قصر خلافت کے دروازے سے لے کر چنیوٹ جانے والی پختہ سڑک تک دو رویہ کھڑے ہوتے تھے۔پرنم آنکھوں کے ساتھ بلند آواز سے اسلام علیکم امیر المؤمنین “ اور فی امان اللہ تعالیٰ " کہتے جاتے تھے۔حضور کی کار جو سنی احاطہ مسجد مبارک کے صددروازے سے باہر آئی۔ربوہ کی مقامی جماعت کی طرف سے دو بکرے بطور صدقہ ذبح کئے گئے۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے لے کر چنیوٹ جانے والی پختہ سڑک تک احباب کے ہجوم کا یہ عالم تھا کہ کھوے سے کھوا چھیل رہا تھا۔حضرت ام المومنین کے مزار مبارک پر دُعا : حضور قصر خلافت سے روانہ ہونے کے بعد پہلے موصوں کے قبرستان میں حضرت ام المومنین کے مزار پر دعا کیلئے تشریف لے گئے۔مزار مبارک کی چار دیواری کے باہر دروازے کے عین سامنے موٹر میں بیٹھے ہوتے ہی حضور نے دعا فرمائی جس میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے اکثر افراد اور بعض خدام شریک ہوتے۔دُعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور لاہور الفضل ۲۴ مارچ ۹۵۵له ) روانہ ہوتے"