سوانح فضل عمر (جلد سوم)

by Other Authors

Page 118 of 398

سوانح فضل عمر (جلد سوم) — Page 118

۱۱۸ ہوتے ہوئے کراچی تشریف لے گئے۔لاہور میں حضور کا قیام مختصر تھا۔کراچی کے چند روزہ قیام میں جات کراچی نے انتہائی پیار و محبت اور خلوص سے حضور اور قافلہ کی تمام ضروریات کا ہر طرح خیال رکھا۔ربوہ سے روانگی کا نظارہ بیان کرتے ہوئے روزنامہ الفضل نے لکھا : " ربوه ۲۳ مارچ - سید نا حضرت خلیفہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز علاج کے لیے یورپ جانے کے ارادے سے آج صبح نو بجے بذریعہ کار لا ہور تشریف لے گئے۔صدر انجمن اور تحریک جدید کے ناظر و و کلام صاحبان ، دیگر شعبہ جات کے افسران مجلوں کے پریذیڈنٹ صاحبان اور اہالیان ربوہ نے کثیر تعداد میں قصر خلافت کے باہر جمع ہو کر محبت و ارادت اور اخلاص و عقیدت کے گہرے جذبات اور در دو سوزہ میں ڈوبی ہوئی دُعاؤں کے ساتھ اپنے محبوب امام کو رخصت کیا۔تمام احباب اپنے آقا کی اس عارضی جدائی پر بے چین ہو ئے جارہے تھے اور عجب اضطراب کے عالم میں میں زیر لب نہایت درجہ عاجزی اور الحاج سے رب العزت کے حضور دعائیں کر رہے تھے کہ اسے خدا تو اس مقدس وجود کا جو تیری ہی عنایت اور تیری ہی شفقت سے ہمارے لیے سایہ رحمت ہے ہر گھڑی اور ہر لمحہ نگہبان ہو اور اسے اپنے خاص الخاص فضل کے تحت اپنی بارگاہ سے شفائے کامل و عامل عطا کرتا یہ بہت جلد ہمارے درمیان پھر رونق افروز ہو کر ہمارے دلوں کو شاد کام کرے اور اس کے وجود کی برکت سے ہم میں خدمت اسلام کا ایک نیا جوش اور نیا ولولہ پیدا ہو کہ جو دنیا کی کایا پلٹ دے۔قصر خلافت سے روانگی : حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نو بجے سے چند منٹ قبل قصر خلافت کے اس دروازے سے باہر تشریف لائے جو مسجد مبارک کے عقب کی جانب ہے تمام احباب جماعت قصر خلافت کے باہر راننے کے دونوں طرف صف بستہ کھڑے زیر لب دعاؤں میں مصروف تھے۔(محرم اسید داؤد احمد صاحب کے کندھے کا سہارا لے کر حضور موٹر کار میں سوارہ ہوتے۔کار کی پچھلی سیٹ پر رونق افروز ہونے کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کروائی در دو سوز میں ڈوبی ہوئی دُعاؤں کا یہ روح پرور نظارہ ایک خاص کیفیت کا حامل تھا۔احباب کرام حضور ایدہ اللہ کی اقتداء میں اللہ تعالیٰ کے حضور سفر کے بابرکت ہونے