سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 93
۹۳ مورخ ہیں۔جن کے علم کا سکہ ان کے عہد زندگی میں ہی سب دنیا کے علمی حلقوں پر بیٹھ چکا تھا اور آج تو وہ تار یخ اسلام پر ایک وقیع سند کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔اس زمانہ میں قادریان کی کی شہرت کی پہلی کرنیں یورپ کے علمی حلقوں تک ابھی پہنچنا ہی شروع ہوئی تھیں چنانچہ پروفیسر بار گولیتھ نے جو آکسفورڈ میں تاریخ اسلام کے پروفیسر تھے اور لاہور ایک لیکچر کے سلسلہ میں تشریف لائے تھے۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود قادیان جا کر تھر یک احمدیت کا مطالعہ کرنا ضروری سمجھا۔چنانچہ شدید مصروفیات اور وقت کی کمی کے با وجود تقریباً نصف دن قادیان میں گزار کر تاریخی اہمیت کے مقامات کا معائنہ کیا اور مختلف احمدی دوستوں سے تبادلہ خیالات کرتے رہے۔حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے آپ کی ملاقات اور گفت گو الفضل نے ہمارے لئے من و عن محفوظ کر دی ہے جس کے مطالعہ سے حضرت خلیفہ ایسیح کی شخصیت کے بعض پہلو نکھر کر سامنے آجاتے ہیں۔اول یہ کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا عالم آپ کو قطعا مرغوب نہ کر سکتا تھا اور آپ کسی ادمی اسی نفسیاتی الجھن کا شکار بھی نہیں ہوتے تھے جس طرح کامل خود اعتمادی کے ساتھ آپ پروفیسر صاحب موصوف سے مخاطب ہوتے ہیں آپ کی معمولی دنیوی تعلیمی سطح اور پروفیسر صاحب موصوف کی عالمی علمی شہرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ امر حیران کن ہے۔اس خود اعتمادی میں خودستائی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔نہ ہی یہ کسی کھو کھلی غلط فہمی پر مبنی ہے۔یہ ایک ایسی خود اعتمادی ہے جو ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے اور وجہ جوازہ اپنے ساتھ رکھتی ہے۔چنانچہ اس تبادلہ خیالات کو پڑھتے ہوئے قاری جب آگے بڑھتا ہے تو یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ پروفیسر مارگولیتھے صاحب ہر قدم پر رائے بدلنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور اس نوجوان کے متعلق تیزی کے ساتھ اپنے تاثرات میں تبدیلی پیدا کر رہے ہیں اور آپ کی بات کو پہلے سے بڑھ کر وزن دینے کے علاوہ اپنے جوابات اور سوالات میں پہلے سے کہیں زیادہ محتاط ہوتے چلے جاتے ہیں۔ابتداء میں آپ نے بظاہر خالصہ تاریخی پچسپی کے سوال کچھ اس رنگ میں کئے که پروفیسر صاحب موصوف آپ کے سوالات کو ایک عام نا واقف طالب علم کے سوالات پر محمول کرتے ہوں گے۔چنانچہ ابتداء میں پروفیسر صاحب موضون کے جواب میں ایسی شفقت کا عنصر دکھائی دیتا ہے جو ایک قابل اور با اخلاق استاد اپنے شاگردوں سے