سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 88

AA مقام پر جا کر ٹھہر جائے بلکہ ہر بالغ نظر کے فکری آفاق ہمیشہ پھیلتے اور وسیع تر ہوتے رہتے ہیں اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالے نے خلافت کی ذمہ داری عطا کرنے کے ساتھ ہی آپ کے تمام ذہنی اور قلبی قومی کو ایسی پختگی عطا کی جو احمدیت کے امام کے شایان شان تھی اور اس زمانہ کے معتمر بزرگ اور بڑے بڑے علماء بھی اس خاص موسیتِ الہی کے نتیجہ میں آپ کے علم و فضل کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو گئے لیکن علم و فضل میں ترقی کا سلسلہ اس مقام پر رک نہیں گیا بلکہ بعد ازاں بھی علم و فضل میں آپ کی ترقی دو طرح سے جاری رہی۔اول تو اس کی وسعتیں بڑھتی چلی گئیں اور روز بروز نئے علوم پر آپ کو دسترس حاصل ہوتی گئی۔دوسرے نئے نئے قرآنی معارف پر آپ اطلاع پاتے رہے اور قرآنی علوم پر آپ کی فکر و نظر اور گھری ہوتی چلی گئی۔آپ کے علم و فضل کی مثال گویا ایسے شفاف اور سیراب کرنے والے دریا کی طرح تھی جو اپنے منبع سے دور ہوتے ہوئے وسعت پذیر ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک بحر ذخار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ر اکتوبر اوار کو جب آپ شملہ سے واپس تشریف لائے تو راستے میں حضرت مجددالف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر دعا کرنے کی خاطر را جپورہ اسٹیشن پر اُتر گئے۔پھر بیاں سے واپسی پر ستور اور پٹیالہ کی پرانی مخلص جماعتوں کی پر زور خواہش کے پیش نظر کچھ عرصہ وہاں ڈر سے اور صداقت اسلام کے موضوع پر ایک موثر اور مدکل تقریر فرمائی۔جس کا سامعین مسلموں پر گہرا اثر پڑا۔