سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 70

ان کو سمجھاتے اور وہ طریق سکھاتے جس سے یہی اعتراضات بڑے موثر رنگ میں دشمنان اسلام کے خلاف استعمال کئے جاسکتے تھے۔طلباء بے تکلف حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نئے علوم اور فلسفوں سے پیدا ہونے والی الجھنوں کا ذکر کر کے رہنمائی کے طالب ہوتے۔حضور جب لاہور تشریف لے جایا کرتے تو اکثر احمدیہ ہوسٹل میں قیام فرماتے۔جہاں مغرب کی نماز کے بعد کمرہ نماز ہی میں مجلس علم و عرفان قائم ہوتی۔ان مجالس میں احمدی طلباء بسا اوقات اپنے غیر از جماعت دوستوں اور اساتذہ کو بھی لے کر آتے جن میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی فراست اور تبحر علمی کا پہلے سے ہی شہرہ تھا اور چاہتے تھے کہ کوئی ملاقات کا موقع میتر آئے۔ہر مذہب اور ہر مکتب فکر کے دانشور طلباء اور اساتذہ ایسے موقعوں پر بڑے دلچسپ سوال کرتے جن کے جوابات سائلین کے علاوہ احمدی نوجوانوں کے لئے علمی تربیت کا نہایت عمدہ ذریعہ ثابت ہوتے۔اس ہوسٹل کے حسن تربیت سے ایسے ایسے سعید درشید نوجوان تیار ہوئے جنہوں نے توفیق الہی عمر بھر سلسلہ حقہ کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔جزا ہم اللہ احسن الجزاء افسوس ہے کہ یہ سلسلہ مستقل طور پر جاری نہ رہ سکا اور ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت خلیفتہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے احمدیہ ہوسٹل میں قیام ترک فرما دیا۔اس واقعہ میں چونکہ ایک گرا سبق ہے اس لئے اس کا بیان کر دیا نا مناسب نہ ہوگا۔ایک مرتبہ ایک ایسے طالب علم کے والد نے جو احمدیہ ہوسٹل میں قیام پذیرتھا حضرت خلیفہ ایچ الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لکھا کہ آپ جب لاہور آتے ہیں احمدیہ ہوسٹل میں قیام فرماتے ہیں اور بعض اوقات یہ قیام بہت لمبا ہو جاتا ہے۔احمدی طالب علموں کو آپ سے ہیں محبت ہے کہ وہ اس دوران پڑھائی کو یکسر بھلا کر اپنا سارا وقت آپ کے لئے وقف کر دیتے ہیں۔جس کے نتیجہ میں اُن کی پڑھائی میں بہت خرج واقع ہو جاتا ہے۔حضور کو اس خط سے بہت جذباتی تکلیف پہنچی۔حضور جانتے تھے کہ لکھنے والے نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ درست نہیں اور احمدی نوجوانوں کی تعلیم پر حضور کے قیام سے کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔تاہم اس بناء پر کہ ہر حال والدین تو تعلیم کی غرض سے اپنے بچوں کو احمدیہ ہوسٹل میں بھجواتے ہیں ان کا حق ہے کہ ایسی وجوہات دور کرنے کا مطالبہ کریں جن سے ان کی دانست میں بچوں کی پڑھائی میں حرج واقع ہوتا ہو آپ نے احمدیہ ہوسٹل میں قیام فرمانا ترک کر دیا۔لیکن افسوس ہے کہ اس کا نتیجہ کسی پہلو