سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 67

عزت کرتا رہا ہے اور یہ خدا وند کریم کا فضل ہے کہ کبھی کوئی کلمہ آپ کی ذات مبارک کی نسبت ہے ادبی پا گستاخی کا سرزد نہیں ہوا۔اور نہ ہی کبھی کوئی بد خیال آپ کی نسبت میرے دل میں پیدا ہوا فَالْحَمْدُ لِلّهِ عَلى ذلِكَ - مگر خاکسارہ ابھی سلسلہ میں داخل نہیں ہوا تھا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ نبوت کے مسئلہ کے متعلق مجھے تردد تھا۔سو خداوند کریم کا نہایت شکر ہے کہ آپ کی کتاب حقیقۃ النبوۃ کو میں نے غور سے مطالعہ کیا ہے جس سے یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے کیونکہ جس نبوت کے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام مصداق ہیں وہ ب وہ ہرگز خاتم النبین کے منافی نہیں ہے اور ایسی نبوت نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی شان کو زیادہ کرتی ہے نہ کہ کم۔اور میں جناب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جناب کی اس کتاب نے مجھے ہدایت کی ہے۔خدا وند کریم حضور کے درجات بلند کرے اور اجر عظیم عطا فرمائے " (صت) اس دور کی ایک اہم تصنیف سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہے جو سیرت پر سادہ اور سلیس اردو میں ایک نہایت دلکش مضمون ہے۔اور جون شاملہ کو آپ نے زندہ خدا کے زبر دست نشان "کے موضوع پر ایک مقالہ لکھا جس میں انقلاب روس کو صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طور پر پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ کس طرح سہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایہ روس کی حالت زار کی خبر دی تھی زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار" در ثمین) جبکہ کوئی زار روس کی حالت زار کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا لیکن پیشگوئی کے پورے بارہ سالی کے بعد بعینہ اسی طرح جس طرح بتایا گیا تھا۔زار انتہائی ذلت اور رسوائی کے ساتھ مارا گیا اور اس کی حالت زار حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی صداقت پر ایک عالمگیر شہرت رکھنے والانشان بن گئی۔اس دور کی بعض دوسری تصانیف حسب ذیل ہیں :- (۱) چند غلط فہمیوں کا ازالہ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب۔(۳) ایک فرمانروائے ریاست کو تبلیغی خط۔(۴) عظیم الشان بشارت ریزبان سندھی)