سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 68

ایک نئے اخبار کا اجراء اسی سال یعنی ، اکتوبر اللہ کا واقعہ ہے کہ حضور کے ایماء پر محترم میر قاسم علی صد علی صاحب مرحوم نے ایک نیا اخبار فاروق جاری کیا ر میر صاحب موصوف دہلی سے ہجرت کر کے مستقل طور پر قادیان میں سکونت پذیر ہو گئے تھے، جس نے خلافت حقہ کی تائید اور اہل پیغام کی تردید میں گرانقدر خدمات سر انجام دیں۔انہیں دونوں کا ذکر ہے کہ مدیر فاروق جناب میر قاسم علی صاحب مرحوم کو ایک دفعہ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے آپ کے گھر پر بے تکلف ماحول میں ملاقات کا موقع ملا۔یہ موقع اس لحاظ سے بیش قیمت تھا کہ مدیر موصوف کو حضرت صاحب کی خوابگاہ اور زمین سمین کے طریق کو قریب سے دیکھنے کا موقع میستر آیا اور انہوں نے اپنے قلم سے اس کی سادہ مگر دلکش اور زندہ جاوید تصویر فاروق کے اوراق میں ہمارے لئے محفوظ کر دی۔آپ لکھتے ہیں :- میں نے دیکھا کہ کوئی تکلف کا فرنیچر نہیں۔معمولی فرشی دری بچھی ہوئی تھی اور ایک طرف حضور کے آرام فرمانے کی چار پائی ہے۔البتہ سب سے بڑی آرائش جو حضور کو پسند ہے یہ تھی کہ دیواروں پر قطعات بلا چوکھٹے و آئینہ آویزاں تھے جن پر نہ کوئی گل کاری یا بیل بوٹے بنے ہوئے تھے نہ وہ سنہری یارو پہلی روشنائی سے لکھے ہوئے تھے معمولی سیاہی سے نستعلیق حروف میں سفید کاغذوں پر قلمی لکھ کر لٹکا دیتے ہیں۔ان کے مضمون کیا ہیں وہ اس مکان سے مکین کے اس تعلق کو زبان حال سے ظاہر کر نیوالے ہیں جو اس کو خدائے واحد ولا شریک سے ہے۔۔۔۔۔میں ذرا ہیں ہر ایک قطعہ کا مضمون نقل کرتا ہوں :- (1) تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَ اللهُ يُرِيدُ الخِرَةَ - (الانفال آیت ! د تر جمہ :۔تم دنیوی اموال کے طالب قرار پاؤ گے ان کےاللہ تعالی ہمارے لئے آخرت کی نعمتیں چاہتا، (۲) بدین دار فانی دلِ خود مبند که دار و نهان را حقش صد گزرند دتر جمہ۔اس فانی گھر میں دل مت لگا کہ اسکی خوشیاں سینکٹوتی کلیفوں پر ہیں۔