سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 55

۵۵ لوں گا۔یہ شنکر رات کو وہ بھاگ گیا اور اس کی تمام قوم عیسائی ہو گئی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اس کی ہمیں کوئی پروا نہیں ہے۔تو حقوق کے لحاظ سے سب مسلمان برابر ہیں یہ مگر شادی میں صرف اسی بات کا خیال نہیں رکھنا بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ جن دو شخصوں کا پیوند ساری عمر کے لئے ہونے لگا ہے ان میں آپس میں اخلاق کا کوئی فرق تو نہیں۔اور بعض اقوام کے اخلاق گرے ہوئے ہوتے ہیں۔پس ان سے ضرور علیحدہ رہنا پڑے گا تا کہ ہمیشہ کا جھگڑا نہ پیدا ہو جائے لڑکے لڑکی کے امن اور آرام کی وجہ سے ایک حد تک کفو کا خیال بھی رکھنا پڑے گا۔لیکن جیسا کہ میں بنا چکا ہوں ہر ایک چیز کی حد ہوتی ہے۔خدا تعالے نے اِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ الكُمُ فرما کر یہ قاعدہ بتا دیا ہے کہ اصل شرافت تقومی ہی ہے۔پس تم کبھی اس بات پر دلیری نہ کرو۔کہ فلاں قوم کمینی ہے۔تم بے شک بعض قوموں سے اختلات اخلاق و عادات کی وجہ سے رشتہ سے پر ہیز کرو لیکن کسی کو وضیع نہ کہو۔کیونکہ جو آج شریف ہوتا ہے وہ حالات کے بدلنے سے وضع ہو جاتا ہے۔اللہ تعالے کے حضور سارے ایک جیسے ہیں جیس کے اخلاقی اور عادات اچھے ہیں وہی اصلی ہے۔پس اگر ایسا ہو کہ مرد کے ایسے خیالات اور عادات ہیں جو لڑکی کے خاندان کے خلاف ہیں تو ان کی شادی نہیں ہونی چاہیئے۔مگر ایسی شرائط لگانا کہ مغل اور مغل بھی برلاس ہو وغیرہ وغیر یہ نہیں ہونا چاہیئے۔تم نیکی اور تقویٰ کو شادی کے معاملہ میں اول دیکھو اب ضرورت مجبور کرتی ہے کہ کچھ مدت کے لئے پھر اسی حکم پر عمل کیا جائے یعنی نہ غیر احمدیوں کو لڑکیاں دی جائیں اور نہ سوائے کسی اشد ضرورت کے ان کی لڑکیاں کی جائیں۔کیونکہ اس وقت ہماری جماعت تھوڑی ہے اور یرقت پیش آرہی ہے کہ احمدی تو غیر احمدیوں کی لڑکیوں سے شادی کرلیتے ہیں اور جو احمدی لڑکیاں ہیں وہ غیروں کے ہاں جا نہیں سکتیں۔میں ان کے لئے رشتہ ملنے میں دقت ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض کمزور احمدیوں کو ابتلاء آ جاتا ہے اور وہ غیر احمدیوں کو اپنی لڑکیاں دے دیتے ہیں۔مجھے بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ لڑکی جوان ہے آپ کہیں شادی کا انتظام کر دیں۔میں اس لسورة حجرات - آیت ۱۴