سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 54

۵۴ دیں گے اور انہیں اچھا سمجھا جائے گا۔آپؐ نے فرمایا۔سب سے شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ نیک اور متقی ہو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ با ہمارے سوال کا یہ مطلب نہ تھا۔فرمایا تو پھر سب سے شریف یوسف تھا کیونکہ یوسف نبی تھا اس کا باپ نبی تھا اس کے باپ کا باپ نبی تھا۔یسبحان اللہ ! کیا ہی لطیف طرز سے آپ نے صحابہ کے سوال کا جواب دیا کہ ان کی بات کا جواب بھی آگیا اور ان کی دل شکنی بھی نہ ہوئی۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ا ہمارا یہ مطلب بھی نہیں تھا۔فرمایا اچھا تو تم لوگ قبائل عرب کے متعلق سوال کرتے ہو۔ان میں سے جو جاہلیت میں شریف سمجھے جاتے تھے اسلام میں بھی وہی شریف ہیں مگر شرط یہ ہے کہ دین سے اچھی طرح واقف ہوں “ اخلاق اسی لئے دیکھے جاتے ہیں کہ نتیجہ نیک نکلے۔اگر کسی کو اپنے اخلاق اور عادات کے مطابق کوئی لڑکا مل جائے خواہ وہ کسی قوم کا ہو تو اس سے رشته کر دنیا چاہیئے جو آج وضیع سمجھا جاتا ہے وہ کل شریف ہو سکتا ہے۔ایک شخص اگر ادتی حیثیت سے مثلاً چوڑھے سے مسلمان ہو تو میں اسی وقت اس کے ساتھ مل کر کھانا کھا لوں گا اور تمہیں اس کا جوٹھا کھا سکتا ہوں اور وہ میرا جو ٹھا کھا سکتا ہے۔کیونکہ جب اُس نے لا الہ الا الله محمد رسول الله کہا تو میرے اور اس میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔اسلام کے لحاظ سے جو میرے حقوق ہیں وہی اس کے ہیں۔اس میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک بادشاہ مسلمان ہو کر آیا تھا۔کعبہ کا طواف کرتے وقت کسی صحابی کے پاؤں کے نیچے اس کا کپڑا آ کر گر گیا۔اس نے اس کو تھپڑ مارا۔کسی نے اس سے کہا کہ حضرت عمر " تجھ سے اس کا بدلہ لیں گے۔اس نے کہا کیا مجھ غسان کے بادشاہ سے اس مفلس کے مارنے کا بدلہ لیں گے ؟ اور کیا مجھے بھی نہیں چھوڑیں گے ؟ اس نے کہا نہیں۔اس کو جو زیادہ شک ہوا تو جا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کہنے لگا کہ کیا اگر کوئی بڑا آدمی تکسی رذیل کو مارے تو آپ اس کا بدلہ تو نہیں لیں گے ؟ انہوں نے کہا۔اوجبلہ تو کسی کو نار تو نہیں بیٹھا۔اگر تم نے کسی کو مارا ہے تو خدا کی قسم میں ضرور تم سے اس کا بدلہ