سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 53
۵۳ ✔ لیتی تو بھی میں آخری دم تک اس بات پر قائم رہتا۔اور کبھی خدا تعالیٰ کی نعمت کے رو کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہ آتا۔کیونکہ یہ غلطی بڑے بڑے خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے ؟ اُس شخص کو خدا کی معرفت سے کوئی حصہ نہیں ملا اور وہ جندا کی حکمتوں کے سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا جو مجھے کہنا ہے کہ آپ خلافت کو چھوڑ دیں۔اس نادان کو کیا معلوم ہے کہ اس کے چھوڑنے کا کیا نتیجہ ہو گا۔پس حضرت عثمان کی طرح میں نے بھی کہا کہ جو قبا مجھے خدا تعالے نے پہنائی ہے وہ میں کبھی نہیں اتاروں گا خواہ ساری دنیا اس کے چھیننے کے درپے ہو جائے۔پیس میں آگے ہی آگے بڑھوں گا خواہ کوئی میرے ساتھ آئے یا نہ آئے۔مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ابتلاء آئیں گے مگر انجام اچھا ہوگا پس کوئی میرا مقابلہ کر کے دیکھ لے خواہ وہ کوئی ہو انشاء اللہ تعالے میں کامیاب رہونگا بعض دن تو مجھ پر ایسے آتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ شافت تیک میں زندہ نہیں رہوں گا۔اس وقت میں یہی خیال کرتا ہوں کہ مبتنی دیہ زندہ ہوں اتنی دیر کام کئے جاتا ہوں۔جب میں نہ رہوں گا تو خدا تعالے کسی اور کو اس کام کے لئے کھڑا کر دے گا۔مجھے اپنی زندگی تک اس کام کا فکر ہے جو میرے سپرد خدا تعالیٰ نے کیا ہے بعد کی مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے ہی چلایا ہے اور وہی اس کا انتظام کرتا رہے گا۔ازدواجی رشتے طے کرنے کیلئے رہنما اصول "آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی طرز کلام بھی کیسی پیاری ہے کہ ہر ایک جو فطرتِ صحیحہ رکھتا ہے شنکر آپؐ پر قربان ہو جاتا ہے۔اہل مغرب میں حسب نسب کا بڑا رواج تھا اس لئے صحابہ نے آنحضرت صلعم سے پوچھا۔یا رسول اللہ اسب سے شریف کون ہے ؟ اس سے ان کا یہ منشاء تھا کہ آپ چند قبیلوں کے نام لے