سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 51
۵۱ استاد کو کہتا ہے خلیفہ جی۔وہ وہاں سے اگر لوگوں کو کہنا شروع کر دے کہ خلیفہ تو درزی کو کہتے ہیں اور کوئی شخص جو در نبی کا کام نہیں کرتا وہ خلیفہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ اسی طرح ایک شخص مدرسہ میں جائے اپہلے زمانہ میں مانیٹر کو خلیفہ کہتے تھے ، اور لڑکوں کو ایک لڑکے کو خلیفہ کہتے سُنے اور باہر آکر کہدے کہ خلیفہ تو اسے کہتے ہیں جو لڑکوں کا مانیٹر ہوتا ہے۔اس لئے وہ شخص جو لڑکوں کا مانیٹر نہیں وہ خلیفہ نہیں ہو سکتا۔خلیفہ کے لئے تو لڑا ہوں کا مانیٹر ہونا شرط ہے۔- اسی طرح ایک شخص دیکھے کہ آدم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا اور ان کے لئے فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدہ کرو۔وہ کے کہ خلیفہ تو وہی ہو سکتا ہے جس کو سجدہ کرنے کا حکم فرشتوں کو ملے کو ور نہ نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ایک اور شخص آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کو دیکھے جن کے پاس سلطنت اور حکومت تھی تو کسے کہ خلیفہ تو اس کو کہتے ہیں جس کے پاس سلطنت ہو اس کے سوا اور کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا کیونکہ خلیفہ کے لئے سلطنت کا ہونا شرط ہے لیکن ایسا کہنے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ خلیفہ کے لفظ کے معنی کیا ہیں ؟ اس کے یہ معنے ہیں کہ جس کا کوئی خلیفہ کہلا ئے اس کا وہ کام کرنے والا ہو۔اگر کوئی درزی کا کام کرتا ہے تو وہی کام کرنے والا اس کا خلیفہ ہے۔اور اگر کوئی طالب علم کسی اُستاد کی غیر حاضری میں اس کا کام کرتا ہے تو وہ اس کا خلیفہ ہے۔اسی طرح اگر کوئی کسی لیبی کا کام کرتا ہے تو وہ اس نبی کا خلیفہ ہے۔اگر خدا نے نبی کو بادشاہت اور حکومت دی ہے تو خلیفہ کے پاس بھی بادشاہت ہونی چاہیے اور خدا خلیفہ کو ضرور حکومت دے گا اور اگر نبی کے پاس ہی حکومت نہ ہو تو خلیفہ کہاں سے