سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 40

م بڑی شدت اور بڑے جذبے کے ساتھ احمدی نوجوانوں کو ترک دنیا کر کے دینِ محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لئے درویشانہ چلے آنے کی تلقین فرمائی اور اس اپیل کے گہرے خلوص سے متاثر ہوتے ہوئے بکثرت نوجوان حضور کی آواز پر لبیک کہکر اور نذیر جاں لئے ہوئے مرکز احمدیت میں حاضر ہونا شروع ہو گئے۔آپ کو جس اعلیٰ کردار کے نوجوانوں کی ضرورت تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔یہ نوجوان ایسے ہوں جو دین اسلام کی خدمت کے لئے دن کو دن اور رات کو رات خیال نہ کریں۔بہت تھوڑے گزارہ پر اوقات بسری کرسکیں اخلاص اور محبت سے کام کریں۔ایسے نوجوانوں کے مختلف حصے کر کے بعض کو مسیحی مذہب کے مقابلہ کے لئے تیار کیا جاوے گا۔بعض کو آریہ مذہب کے مقابلہ کے لئے بعض کو سکھ مذہب کے مقابلہ کے لئے بعض کو جینیوں بعض کو ساتن دھرمیوں اور بعض کو بدھوں کے مقابلہ کے لئے تعلیم دی جاؤ گی ایک دو سال تک ان کو ان مذاہب کی تعلیم کے ساتھ خود اسلام کی تعلیم دے کر خدمت اسلام پر مختلف مقامات پر مامور کیا جا دیگا پس جو مخلصین کہ اس موقعہ پر السابقون الاولون میں داخل ہو کر ثواب حاصل کرنا چاہیں بہت جلد مجھ کو اطلاع دیں اور قادیان آنے کے لئے تیار ہو جاویں۔میرے پیارو! لوگ چند رویوں کے لئے اپنی جانیں لڑا دیتے ہیں۔پھر کیا یہ ممکن ہے کہ احمد کی مجمعات میں ایسے لوگوں کی کمی ہوگی جو دین کے لئے اپنی زندگی وقف کر دیں۔خوب یاد رکھو کہ جو قوم قربانی نہیں کر سکتی وہ ترقی بھی نہیں کر سکتی " الفضل قادیان ۲۳ جولائی ساله) وقت زندگی کی یہ وہ تحریک تھی جس پر لبیک کہتے ہوئے بہت سے نوجوانوں نے اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے پیش کر دیں۔لیکن ان واقفین کی مثال ابھی بارش کے ابتدائی قطروں کی طرح تھی یہ وہ ابتدائی بنگل تھا جو اسلام سے محبت کرنے والوں کو بیدار کرنے کے لئے بجایا گیا۔پھر وہ وقت بھی آیا کہ یہ بگل آپ نے پے بہ پے پوری قوت