سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 39
۳۹ کے لئے پیش کر دی۔کچھ ایسے تھے جنہوں نے اپنی عمر بھر کا اندوختنہ حاضر کر دیا۔تنخواہ داروں نے ایک ایک مہینہ کی تنخواہ دی اور عورتوں نے اپنے زیورات دینِ اسلام کی ترقی کی نذر کئے۔قادیان کی اس غیر معمولی قربانی کے مظاہرے سے قبل ہی قادیان کی اس درویش جماعت کے متعلق حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو یہ نظارہ دکھایا گیا تھا کہ ایک شخص عبد الصمد کھڑا ہے اور کہتا ہے مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں" منصب خلافت ص۳۳ ) مختصر سا واقعہ اس لحاظ سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اس نے آئندہ ہمیشہ کے لئے جماعت کی مالی قربانیوں اور خلیفہ وقت کی آواز پر والہانہ انداز میں لبیک کہنے کی ایک ایسی روایت قائم کر دی جس کے نیک اور میٹھے ثمرات آج تک جماعت احمدیہ پا رہی ہے۔اس دن سے لے کر خلیفہ المسیح الثانی کی وفات کے دن تک کبھی جماعت کا قدم پیچھے نہیں ہٹا بلکہ خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آج جبکہ خلافت ثالثہ پر بارہ سال گزر چکے ہیں۔جماعت مالی قربانی میں اور اپنے امام کی آواز پر لبیک کہنے میں مسلسل آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔اور سخت مخالفانہ حالات میں بھی اس نے کبھی ایک قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔پس یہ رویا جس میں قادیان کی غریب جماعت کو یہ عظیم الشان نمونہ دکھانے پر مبارکباد پیش کی گئی تھی برحق اور سیجا تھا اور قیامت تک جماعت کی قربانیاں قادیان کی اس غریب جماعت پر سلام بھیجتی رہیں گی۔ورہ یعنی آپ کی خلافت کا پہلا سال جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اس لحاظ سے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اس سال جماعت کو دین کی خاطر مالی قربانی کے نئے میدانوں کی طرف بلایا گیا۔اور وہ غیر معمولی رفتار متعین کر دی گئی جس کو برقرار رکھتے ہوئے جماعت احمدیہ نے دین حق کی خاطر اپنے اموال لٹانے تھے۔پھر اس لحاظ سے بھی یہ سال خاص اہمیت کا حامل ہے کہ وقت زندگی کی تحریک کا بیج جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة د السلام نے اپنے دست مبارک سے بویا تھا اس سال مزید لہلہاتی ہوئی کونپلوں کی صورت میں رونما ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے آقا کے نقش قدم پر چلتے ہو ئے