سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 34
سلام السلام اس ذکر میں محبت کی چاشنی شامل تھی۔حضرت خلیفہ المسیح کے اس احسان کو انہوں نے کبھی دل سے فراموش نہ ہونے دیا۔کہ آپ کی بدولت ان کو اسلام کی دولت از سر تو نصیب ہوئی۔یہ بات نہیں تھی کہ انہیں اپنے علم پر ناز نہ رہا ہو۔یہ ناز آخر وقت تک قائم رہا اور کیوئی نہ رہتا حقیقتا آپ بائیبل کے ایک متبحر عالم تھے ہزاروں آیات حفظ تھیں کثرت سے حوالے نوک زباں تھے۔عیسائی ہو یا مسلمان کسی دوسرے عالم کو کبھی خاطر میں نہ لاتے تھے۔ہاں حضرت خلیفہ ایسے ایک ایسا استثناء تھے جن کے سامنے ایک فرمانبردار با ادب شاگرد کی طرح ہمیشہ زانوے ادب تہہ کئے رہے۔حضرت خلیفہ ایسیح غیر از جماعت دوستوں کے علاوہ احباب جماعت احمدیہ سے بھی بکثرت ملاقاتیں فرمایا کرتے۔آپ ان کے سوالات کا شافی جواب دیتے۔انکی مشکلات میں انہیں قیمتی مشوروں سے نوازنے حوصلہ دیتے اور ڈھارس بندھاتے۔مصائب میں ان کے لئے دردمندانہ دعائیں کرتے اور دلی تسکین اور راحت کا سامان پیدا کرتے ساتھ سی نهایت دلکش انداز میں تزکیۂ نفس کا کام بھی جاری رہتا۔کوئی کمزوری دیکھتے تو اسے نہایت پیارے انداز میں دُور کرنے کی کوشش فرماتے۔مکرم مرزا احمد بیگ صاحب وو ساہیوال اسی قسم کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- ابتدائے خلافت سے ہی حضور کو احباب کی اصلاح کا شدید خیال تھا۔چنانچہ میرے ماموں جان حضرت مرزا غلام اللہ مرحوم رضی اللہ عنہ کو ایک دفعہ فرمایا کہ مرزا صاحب دوستوں کو حقہ چھوڑنے کی تلقین کیا کریں۔اب در حقیقت ماموں صاحب خود حفہ پیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا بہت اچھا حضور یہ گھر میں آئے۔اپنا حصہ جو دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اس کا نیچہ ٹوپی وغیرہ توڑ دی۔ممانی جان نے سمجھا کہ آج شاید حقہ دھوپ میں پڑا رہا ہے اس لئے یہ فعل نارا جنگی کا نتیجہ ہے لیکن جب انہوں نے کسی کو بھی کچھ نہ کہا تو ممانی صاحبہ نے پوچھا۔آج حصے پر کیا ناراضنگی آگئی تھی۔فرمایا مجھے حضرت صاحب نے حقہ پینے سے لوگوں کو منع کرنے کی تلقین کے لئے ارشاد فرمایا ہے۔اور میں خود حقہ