سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 383 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 383

۳۳ سے زیادہ وقیع اور وسیع اور طاقتور اور حقوق نسواں کی سب سے زیادہ اور پیچی علمبردار بن جائے گی۔یہ بات محض خوش فہمی نہیں بلکہ حقائق کا نرخ اور جماعت احمدیہ کا کر دار تا رہا ہے کہ لانگا ایک دن ایسا ہو کر رہے گا۔اب تو خدا تعالے کے فضل سے جماعت کی تعداد اور وقار پہلے سے بہت بڑھ چکے ہیں جب ابھی ابتدائی دور تھا اور جماعت ہر لحاظ سے نسبتاً بہت کمزور اور غیر معروف تھی۔اس وقت بھی جماعتی تنظیموں کا بہ نظر غور جائزہ لینے والوں نے اس تنظیم میں عظمت کے ایسے آثار دیکھے تھے جن کا نوٹس لئے بغیر وہ نہ رہ سکتے۔تحریک سیرت کے مشہور لیڈر مولانا عبدالمجید قرشی نے اپنے اخبار تنظیم" امرتسر میں لکھا :- الجنہ اماءاللہ قادیان احمدیہ خواتین کی انجمن کا نام ہے۔اس انجمن کے ماتحت ہر جگہ عورتوں کی اصلاحی مجالس قائم کی گئی ہیں۔اور اس طرح پر ہر وہ تحریک جو مردوں کی طرف سے اٹھتی ہے خواتین کی تائید سے کامیاب بنائی جاتی ہے اس انجمن نے تمام خواتین کو سلسلہ کے مقاصد کے ساتھ عملی طور پر وابستہ کر دیا ہے۔عورتوں کا ایمان مردوں کی نسبت زیادہ مخلص اور مربوط ہوتا ہے۔عورتیں مذہبی جوش کو مردوں کی نسبت زیادہ محفوظ رکھ سکتی ہیں۔بجنہ اماءاللہ کی جس قدر کارگزاریاں اخبار میں چھپ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کی آئندہ نسلیں موجودہ کی نسبت زیادہ مضبوط اور پُر جوش ہوں گی اور احمدی عورتیں اس چین کو تازہ دم کمینگی۔جس کا مرور زمانہ کے باعث اپنی قدرتی شادابی اور سرسبزی سے محروم ہونا لازمی تھایا ہے اسی طرح لجنہ کے ماہنامہ مصباح " کو پڑھ کر ایک آریہ سماجی اخبار تیج " کے ایڈیٹر نے یہ لکھا:۔میرے خیال میں یہ اخبار اس قابل ہے کہ ہر ایک آریہ سماجی اس کو دیکھے۔اس کے مطالعہ سے انہیں احمدی عورتوں کے متعلق جو ه اخبار تنظیم امرتسر ۲۸ دسمبر تا مشتراه بحواله تأثرات قادیان ما