سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 382
تورات پروگرام اختیار کر لی ہے۔اس اجتماع کے موقع پر جو بالعموم اکتوبر کے مہینہ میں ہوتا۔کی مجلس شوری منعقد ہوتی ہے جس میں سالانہ بجٹ کے علاوہ سال بھر کے عمومی دنیا بھر کی بجنات کے باہمی روابط کے ذرائع اور مقامی مجالس کی مشکلات کے متعلق خورد خوض کیا جاتا ہے۔مرکزی لجنہ کی مساعی کی مفصل رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔اسی طرح علمی اور تقریری مقابلے کروائے جاتے ہیں۔عام اصلاحی اور علمی تقاریر کا پروگرام بھی بڑا مفید اور دلچسپ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح بھی مستورات کو خطاب فرماتے ہیں۔جس میں انہیں ان کے مقصد زندگی اور جماعتی فرائض کی طرف عارفانہ اندازہ میں توجہ دلائی جاتی ہے۔غرض عورتوں کی بیداری اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے میں اس اجتماع کو ایک نمایاں دخل حاصل ہوتا جا رہا ہے اور دن بدن اس کی دلچسپیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں دینی کتب کے امتحانات لینا۔تربیتی کلاسز منعقد کرنا اور عورتوں کی بہبود کے دوسرے پروگرام بنانا بھی اس مجلس کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہے۔شاء سے بجنہ اماء اللہ کی زیر نگرانی چھوٹی بچیوں کی بھی ایک مجلس قائم ہے۔جس کا نام بعد میں حضور نے ناصرات الاحمدیہ " رکھا۔اس مجلس میں سات سے پندرہ سال کی عمر تک کی پھبتیاں بطور ممبر شامل ہوتی ہیں جو اپنے عہدہ دار خود چنتی ہیں اور لجنہ اماء اللہ کی زیر نگرانی اپنے الگ الگ اجتماع منعقد کرتی ہیں اور دوسری علمی و دینی دلچسپیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ابتدائے عمر سے ہی بیچتیوں میں دینی اور علمی شوق پیدا کرنے کے لحاظ سے یہ مجلس بہت مفید کام کر رہی ہے۔شروع سے بچیوں کی تربیت اس انداز میں کی جاتی ہے ، کہ بڑی ہو کہ جب وہ لجنہ اماءاللہ کی نمبر نہیں تو اپنے تجربہ اور تربیت کی بناء پر مجلس کی بہترین کارکن ثابت ہوں۔(A) لجنہ اماءاللہ کی تنظیم اغیار کی نظر میں بلا شبہ اس تنظیم کا روشن ماضی اور درخشنده حال ایک خوش آئند مستقبل کا چہ دیتے ہیں۔اور ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب خلفائے سلسلہ کی روحانی قیادت کے تابع مستورات کی یہ انجمن دنیا بھر کی سب دوسری خواتیں کی انجمنوں