سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 371 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 371

کے رب پہلو نکھر کر سامنے آجائیں وہاں مردوں کو بھی ذہنی طور پر اس امر پر تیار کیا جاسکے کہ وہ عورت کو سوسائٹی میں وہ مقام دینے پر آمادہ ہو جائیں جو اس کا جائز اسلامی مقام ہے۔جب بحث راستے سے بھٹک کر ایسی پگڈنڈیوں پر چل پڑتی جن کا رُخ کسی دوسری طرف ہوتا تو آب ، مقررین کو واپس اصل راستے کی طرف کھینچ لاتے اور نہایت پاکیزہ اور واضح تبصرہ فرما کہ اصل مبحث کی طرف ذہنوں کو منتقل فرما دیتے۔زیر نظر مسئلہ کے وقتی پہلو پر ہی آپ کی نظر نہ تھی بلکہ بار بارہ آپ بحث میں حصہ لینے والوں کی توجہ مستقبل کی طرف بھی مبذول کروانے اور انہیں خبردار کرتے کہ آج کے فیصلے کی غلطی یا درستی اسلام کے مستقبل پر بہت دیر پا اور دور رس اثر ڈالنے والی ہوگی۔اس لئے پوری احتیاط اور باریک بینی کے ساتھ اس مسئلے کے ہر پہلو پر غور کیا جائے۔آپ نے اس اجلاس میں مستورات کو بھی بولنے کی اجازت دی اور روایتی جھجک کی بناء پر جب کوئی بولنے پر آمادہ نہ ہوا تو آپ نے بار بار اصرار کے ساتھ انہیں اس بحث میں خفتہ لینے پر آمادہ کیا۔غرضیکہ اس موضوع پر آپ کے ارشادات اور فیصلے مسلمان عورت سے متعلق صحیح اسلامی تصور کو بڑی عمدگی سے واضح کرتے ہیں اور یقیناً ان میں سے بعض اقتباسات کو پیش کرنا قارئین کی دلچسپی کا موجب ہو گا لیے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ممبران مجلس مشاورت کی اصولی راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا :- میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ رائے دیتے وقت۔۔۔۔۔۔یہ بات مد نظر رکھیں کہ ان کے فیصلہ کا نتیجہ انہی کے آگے آئیگا اگر عورتوں کو مجلس مشاورت میں رائے دینے کا حق دینا نقصان کا موجب ہوگا تو ان کی غلطی انہی کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے اور اگر حق نہ دنیا اسلام کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا عبات ہوگا تو اس کا خمیازہ بھی انہی کو بھگتنا پڑے گا۔۔مسلمان عورتوں کے حالات میں تغییر میں جہاں تک سمجھتا ہوں اس وقت تک مسلمان عورتوں کی زبانی نہیں۔وہ خاموش گھروں میں بیٹھی ہیں مگر اس میں بھی شک لے تفصیلات کے لئے رپورٹ ہائے مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء تا ۱۹۳ کا مطالعہ کیا جائے۔