سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 370
سم میں پردہ کی تعلیم صحابیات کے لئے ایسی زنجیر نہ بن سکی کہ وہ گھروں میں مقید ہو کہ قومی خدمات سے محروم ہو جائیں اسی طرح اس زمانہ میں بھی پردہ کی تعلیم عورت کو قومی مسائل میں عملی کردار ادا کرنے سے باز نہ رکھ سکے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر پردہ کی حکمت کو اور کون سمجھ سکتا تھا۔چنانچہ آپؐ کے زمانہ میں عورت کی طرز زندگی پر نظر دوڑاتے ہوئے یہ مناظر ہمارے سامنے آتے ہیں کہ زمانہ نبوئی میں مسلمان عورت عصمت اور پاکیزگی کی فصیل میں قلعہ بند ہونے کے باوجود اہم قومی اور ملی خدمات سے محروم نہ رہتی تھی۔اگر ایک طرف جہاد بالسیف کے دوران وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی اور متفرق ہنگامی خدمات سر انجام دیتی تو دوسری طرف زمانہ امن میں جہاد بالقرآن کے اہم تر فریضہ میں مصروف ہو جاتی۔بچوں ہی کی نہیں بڑوں کی بھی تربیت کرتی۔عورتوں ہی کی نہیں مردوں کو بھی تعلیم دیتی۔ضرورت پڑتی تو مردوں سے خطاب کرتی اور وقت آنے پر ا مور مہمہ میں راہنمائی کے فرائض بھی سرانجام دیتی۔انہی میں سے وہ عظیم اور بلند پایہ خاتون بھی تھیں جن کے متعلق بڑے بڑے علماء دین اور فقہاء اور مفترین کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم نے جو دین سیکھا اس میں سے آدھا دین ہمیں اس عظیم خاتون یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وساطت سے پہنچا۔جب مجلس شوری جماعت احمدیہ میں عورت کی نمائندگی کا سوال پیدا ہوا تو یہی وہ تصور تھا جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ذہن نہیں تھا اور عورت کا یہی وہ مقام تھا جس پر آپ احمدی خاتون کو فائز دیکھنا چاہتے تھے۔کئی سال تک یہ سوال مجلس مشاورت میں اٹھتا رہا اور بڑی زور دار علمی بحثوں کا محرک بنا رہا۔جہاں بعض علماء کی طرف سے شرعی بنیا دوں پہ اس کی شدید مخالفت ہوتی رہی کہ عورتیں بحیثیت نمائندہ مجلس مشاورت خود مردوں کی موجودگی میں اپنی رائے کا اظہار کیا کریں۔وہاں بعض علماء نے شرعی بنیادوں ہی پر عورت کے حق نمائندگی اور حق تخاطب کی پر زور تائید کی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ وقتاً فوقتاً اس بحث پر تبصرے فرماتے رہے۔آپ کا مقصد یہ تھا کہ جہاں ایک طرف اس مسئلہ کے شرعی پہلوؤں پر ہر طرح کی بحث و تخصیص کے بعد اس کے حسن و قبیح