سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 346
کرنے میں مانع ہے اور جب آزادی عورت کے احمدیت قبول کرنے میں مانع ہوتی ہے تو ماں کے جو اولاد پیدا ہوتی ہے اسے بھی وہ احمدیت کے قبول کرنے سے روکتی ہے۔اس طرح وہ اپنے خاوند کو بھی احمدیت کے قبول کرنے سے روکے گی کیونکہ اگر وہ احمدیت کو قبول کرے تو اس کی آزادی میں فرق آجائے گا۔غرض عورت میں ہماری تبلیغ میں روک بن رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس کا ایک ہی علاج ہو سکتا ہے وہ یہ کہ فور میں مبلغ نہیں اگر وہ عورتوں میں تبلیغ کریں گی تو ہمارے رستے سے یہ روک یقینا ہٹ جائے گی یہ ر خطبه تبعه ۱۲ اکتوبر تهویه مطبوعه الفضل ۱۲۰ اپریل نشه احمدی عورت سے آپ کی توقعات آپ احمدی خاتون سے صرف یہی توقع نہیں رکھتے تھے کہ وہ خود اسلامی ضابطہ اخوات کی پابندی کرے بلکہ مردوں سے بڑھ کر اس پر یہ ذمہ داری عاید کرنا چاہتے تھے کہ وہ از خود دوسری مستورات سے بھی اسلامی ضابطہ اخلاق کی پابندی کروائے۔اس ضمن میں حسب ذیل اقتباس احمدی عورت سے آپ کی توقعات کا منظر ہے۔آپ فرماتے ہیں: عورتوں سے مصافحہ کرنے کی رسم کو اب چھوڑنا چاہیئے اور خود عورتوں کے اندر یہ احساس پیدا کرنا چاہیئے کہ وہ اس سے بچیں جب عورتوں کی ایک ایسی جماعت تیار ہو جائے گی تو وہ خود دوسروں کو سنبھال لے گی۔یاد رکھیں کہ عورتوں کے اندر ایران کی ایک خاص مناسبت ہے۔ایک دو مخلص عورتوں کو خوب سمجھا کہ وہ باتیں جو عورتوں سے متعلق ہیں ان کے دلوں میں خوب رچا دیں۔پھر دیکھیں کہ وہ کس طرح سیف مسلول بن کر دوسری عورتوں کو اپنا ہم خیال بنا لیتی ہیں۔یہ کام بغیر عورتوں کی مدد کے نہ ہوگا " ر الفضل ۲۵ جنوری ۶۱۹۲۳ ص ۵)