سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 30
سوالات اتنے پیچیدہ اور عجیب قسم کے تھے کہ انہیں شنکر مجھے یقین ہو گیا کہ حضرت صاحب ابھی بالکل نوجوان ہیں اور الہیات کی کوئی باقاعدہ تعلیم بھی انہوں نے نہیں پائی۔عمر بھی چھوٹی ہے۔اور واقفیت بھی بہت تھوڑی ہے۔وہ ان سوالوں کا جواب ہر گز نہیں دے سکیں گے اور اس طرح سلسلہ احمدیہ کی بڑی بدنامی اور شبکی ساری دنیا میں ہوگی۔کیونکہ جب حضرت صاحب اس کے سوالوں کا جواب نہ دے سکے تو یہ امریکن پادری واپس جا کر ساری دنیا میں اس امر کا پروپیگنڈا کرے گا کہ احمدیوں کا خلیفہ کچھ بھی نہیں جانتا اور عیسائیت کے مقابلہ میں ہر گز نہیں ٹھہر سکتا۔وہ صرف نام کا خلیفہ ہے ورنہ علمیت خاک بھی نہیں رکھتا۔اس صورتِ حال سے میں کافی پریشان ہوا۔اور میں نے اس بات کی کوشش کی کہ وہ امریکن پادری حضرت صاحب سے نہ ملے اور ویسے ہی واپس چلا جائے۔مگر مجھے اس کوشش میں کامیابی نہیں ہوئی۔وہ امریکن اس بات پر مصر رہا کہ میں ضرور خلیفہ صاحب سے مل کر جاؤں گا ناچار میں گیا اور میں نے حضرت صاحب سے کہا کہ ایک امریکن پادری آیا ہے اور آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہے۔اب کیا کریں ؟ اس پر حضرت صاحب نے بغیر توقت کے اور بلا تامل فرمایا کہ بلا لو ناچار میں اُسے لے کر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔دونوں کے درمیان ترجمان میں ہی تھا۔امریکن پادری نے کچھ رسمی گفتگو کے بعد اپنے سوالات حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کئے۔جن کا ترجمہ میں نے آپ کو سُنا دیا۔حضرت صاحب نے نہایت سکون کے ساتھ ان سب سوالوں کو سنا اور پھر فوراً اُن کے ایسے تسلی بخش جوابات دیئے کہ میں سنکر حیران ہو گیا۔مجھے ہرگز یقین نہ تھا کہ ان سوالوں کے حضرت صاحب ایسے پر معارف اور بینظیر جواب دے سکیں گے۔جب میں نے یہ جوابات انگریزی میں امریکن پادری کو سُنائے تو وہ بھی حیران رہ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے آج تک انیسی