سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 342
کے ساتھ مستورات کے لئے دو الگ کا لم مقرر فرمائے اور ساتھ ہی اس احساس کا بھی ذکر کیا کہ اگرچہ دو کالم بہت کم ہیں لیکن عورتوں میں علمی دلچسپی پیدا کرنے کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔عورتوں کا اولین منتقام " مشرقی سوسائٹی میں یہ مقولہ آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ عورت کا اولین مقام گھر کی چار دیواری ہے۔اس منقولہ میں جو لفظ مقام آتا ہے اگر تو اس کے معنی حقیقت میں مقام ہی لیا جائے۔جس میں فرض منصبی کے علاوہ عزت و احترام کے معنی بھی پائے جاتے ہیں تو ہر گز یہ مقولہ کوئی قابلِ اعتراض مقولہ نہیں بلکہ قوموں کی تعمیر اور ترقی کے لئے حکمت اور معرفت سے لبریز ایک بیش بہا اصول پیش کرتا ہے لیکن افسوس کہ مشرقی سوسائٹی میں مقام " کے معنے زیادہ تر اسی قدر لئے جاتے ہیں کہ گویا گھر کی چار دیواری عورت کا قید خانہ ہے جہاں ایک جابر خاوند کے استبداد کے تحت لونڈیوں کی طرح زندگی بسر کرنا ہی عورت کا مقام ہے۔لیکن حضرت مصلح موعود کے ننزدیک مقام کے یہ معنی نہ تھے بلکہ اس سے آپ عورت کی اہم اور وسیع تر قومی نوعیت کی ذمہ داریاں مراد لیتے تھے جن کی ادائیگی کی صورت میں عورت ایک نتان بلند اور رفیع الشان مقام کو پالیتی ہے۔آپ کے نزدیک عورت کا اصل مقام محض بیچتے پیدا کرنا اور پالتا ہی نہیں بلکہ بچوں کے کردار کی تعمیر ہے۔نئی نسلوں کی استعدادوں کی بہترین نشو و نما نیں بھر پور حصہ لیتا ہے ان کی ذہنی اور فکری اور عملی صلاحیتوں کو سین سائنچوں میں ڈھالنا ہے گویا اسلامی سوسائٹی میں عورت کو ویسا ہی کردار ادا کرنا ہے جیسے ایک انجینئر ایک آرکٹیکٹ کے بنائے ہوئے نقشے کو عملی جامہ پہنانے میں ادا کرتا ہے۔قرآن وسنت نے انسانی سوسائٹی کا جو حسین اور دلکش نقشہ پیش کیا ہے اس کے مطابق آپ اگلی نسلوں کی تعمیر وتشکیل کی اولین ذمہ دار عورت ہی کو سمجھتے تھے خلافت پر فائز ہونے سے قبل بھی آپ کو اس امر کا بہت خیال رہتا تھا۔چنانچہ کیفیت مدير الفضل آپ نے اس موضوع پر جو کچھ لکھا اس میں سے چند اقتباسات صدید قارئین کئے جاتے ہیں :-