سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 341

اسم ۳ عورت کو بھی شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ خاوند کو دیکھ لے اور اس کے متعلق تحقیقات کرلے۔لیکن جب تعلق قائم ہو جاتا ہے تو تمھیں ایک دوسرے کی ایسی باتیں برداشت کرنی پڑیں گی۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے بعض افراد بڑی آزادی کے ساتھ اس تعلق کو توڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔یہ کوئی انصاف ہے ؟ یہ تو عورت کو ذلیل کرنے کے مترادف ہے۔قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لوگوں کو توجہ دلائی ہے۔کہ تم عورتوں کے ساتھ لیٹتے ہو اور پھر ان کے حقوق ادا نہیں کرتے یہ کتنی قابل شرم بات ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم مجبور ہو کر کسی عورت کو اپنے ازدواجی تعلق سے علیحدہ بھی کرنا چاہو تو اسے احسان کے ساتھ علیحدہ کرو۔لیکن یہاں ایک مقدمہ دکھا دو جہاں خاوند یہ کہتا ہو کہ یکں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں۔اور سر منظور کر وہ شہر اُسے دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔اگر مجبور ہو کر بیوی ضلع بھی کرا لے تو قاضی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے خاوند سے مهر دلائے کیونکہ خاوند طلاق دینا چاہتا ہے لیکن مہر دینے پر راضی نہیں تھا۔اس لئے اس نے بیوی کو ضلع لینے پر مجبور کر دیا قاضی کا یہ حق ہے کہ وہ اس قسم کے تخلع کو طلاق قرار دے کر بیوی کو اس کا مہر دلائے " " درپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۳ مسی عورتوں کی تربیت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو مستورات کی تربیت اور ترقی کا خاص طور پر خیال رہتا تھا۔یہاں تک کہ منصب خلافت پر فائز ہونے سے قبل بھی آپ حتی المقدور اس امر میں کوشاں رہے کہ احمدی مستورات اپنے مقام کو سمجھیں اور علم و فضل میں ہر بہت سے ترقی کریں۔چنانچہ لا الہ میں الفضل کے سب سے پہلے پرچے میں آپ نے خصوصیت