سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 325
۳۲۵ وہ جماعت جو اپنے کارکنوں کی ماہانہ تنخواہ دینے کی بھی طاقت نہ رکھتی تھی صرف اس کی مستورات ہی سے پچاس ہزار روپے کی گرانقدر رفتم کا مطالبہ کرنا اور بغیر کسی انتظار کے فورا بعد ہی مزید پچاس ہزار روپے کی ایک اور تحریک جاری کر دنیا یقینا بہت بڑی ہمت کا کام تھا بظاہر تو اس کا نتیجہ یہ نکلنا چاہیئے تھا کہ جماعت ان مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہے بلکہ آئندہ چندوں کی ادائیگی میں کوتاہی کرے۔لیکن واقعہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا۔بعد کے حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ جماعت کے مالی نظام کی بنیادیں در اصل اسی دور میں مضبوط اور مستحکم ہوئیں۔اور اسی بحران میں ان دونوں تحریکات کے نتیجہ میں اور انہی کی برکت سے جماعت میں مالی قربانی کی صلاحیتیں پوری طرح بیدار ہوئیں۔نئی اُمنگیں اُبھریں اور حوصلوں کو نئی وسعتیں عطا ہوئیں۔اور جماعت من حیث المجموع مالی قربانی کے ایک ایسے بلند معیار پر قائم ہو گئی کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کے مبارک دور کے سوا دنیا کے پردے پر اس کی کوئی دوسری مثال نظر نہ آئے گی۔خلاصہ کلام یہ کہ ۱۹۲۳ء ہی دراصل وہ سال ہے جبکہ ملکانہ کے جہاد اور چندہ مسجد بوبین کی تحریکات کی برکت سے جماعت احمدیہ پہلی مرتبہ مالی لحاظ سے مستحکم ہوئی اور اس کی ایسی کایا پلٹ گئی کہ گویا منصہ شہود پر ایک نئی جماعت اُبھری ہے :