سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 28

چونکہ ابھی تک مبائعین اور غیر مبائعین کے نظام میں کوئی واضح اور غیر مسیم امتیاز پیدا نہ ہوا تھا اور سادہ لوح دیہاتی جماعتیں سلسلہ کے پرانے کارکنوں کی ہر تحریک کھنا موجب سعادت سمجھتی تھیں اس لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جماعت کو ایک نہایت اہم اور دور رس نتائج کی حامل یہ نصیحت فرمائی کہ سلسلہ احمدیہ میں کسی چندہ مانگنے والے کو چندہ نہ دیا جائے خواہ چندہ مانگنے والا کوئی ہی کیوں نہ ہو۔اور چندہ کیسے ہی نیک کام کے لئے کیوں نہ مانگا جائے۔جب تک اس کام کو خلیفۂ وقت نی منظوری حاصل نہ ہو۔یہ ہدایت نہ صرف وقتی غلط فہمیوں کی روک تھام کے لئے مفید ثابت ہوئی بلکہ اس کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے جماعت احمدیہ کے چندے کا نظام محفوظ اور مستحکم ہو گیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی ہدایت کے اصل الفاظ حسرب ذیل ہیں : بہت سے احباب خطوط کے ذریعہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم چندوں کا کیا کریں آیا انجمن کو بھیجیں یا نہ بھیجیں۔ان سب دوستوں کی اطلاع کے لئے ایسا ہی اُن دوسرے احباب کی اطلاع کے لئے جو میرے ہاتھ پر سبعیت کرچکے ہیں میں اشتہار کے ذریعہ اعلان کرتا ہوں کہ چندے برابر صدر انجمن میں آنے چاہئیں۔ہاں چونکہ ابھی تک مجھے اطمینان نہیں کہ انجمن اس موجودہ فتنہ میں کیا حصہ لے گی اس لئے میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ انجمن کے سب چندے میری معرفت ارسال ہوں۔میں انہیں خدا نہ انجمن میں داخل کر کے انجمن کی رسید بھجوادوں گا۔ایسے مقامات جہاں کے سیکرٹری یا محاسب نے ابھی بیعت نہیں کی وہاں یہ انتظام ہو سکتا ہے کہ اگر محاسب یا سیکرٹری اس انتظام کو منظور کر لیں تو فبہا ورنہ ان کی بجائے کوئی اور شخص مقرر کر دیا جاوے جو مبائین کا چندہ وصول کر کے بھیج دیا کرے۔دوسری بات میں یہ بھی کہنی چاہتا ہوں کہ آئندہ انجمن کے چندں