سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 324
۳۲۴ دیر نہ کروں گی۔خدا کی قسم اٹھا کر کہتی ہوں۔ہر تکلیف اُٹھانے کو تیار ہوں کالے امتد الرحمن صاحبہ مڈوائف بھیرہ ہسپتال نے اس طرح اپنے جذبۂ شوق کا اظہار کیا۔حضور میرا باپ عاشق مسیح موعود تھا۔دنیا میں دو لڑکے اور ایک لڑکی چھوڑ گیا۔میرے دونوں بھائی عبد الرحیم و عبداللہ سرفروشوں میں حضور کے حکم سے کام کر رہے ہیں۔اس عاجزہ کا بھی دل تڑپ رہا ہے یہ بھی تین ماہ کے لئے زندگی وقف کرتی ہے یہ تحریک شدھی کے دوران جماعت احمدیہ نے میں والہانہ اندازہ میں قربانیاں پیش کیں اور یوپی کے کئی متاثرہ اضلاع میں جس کامیابی کے ساتھ آریہ سماج کا مقابلہ کیا اور ہر میدان میں ان کو شکست فاش دی۔ایک طویل اور دلچسپ داستان ہے جس کا اصل تعلق تاریخ احمد تیت کے ساتھ ہے اور کسی حد تک تاریخ احمدیت میں اس پر روشنی ڈالی بھی جاچکی ہے۔ہماری نظر اس وقت اس تحر یک کے ان پہلوؤں پر ہے جس کا تعلق براہِ راست حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی شخصیت - کردار اور صلاحیتوں سے ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آپ نے ایک فتح نصیب جرنیل کے طور پر اس تحریک کی قیادت کی اور ہر میدان میں منظقر و منصور ہوئے۔اس کا کچھ ذکر آئندہ کیا جائے گا یہاں فی الوقت صرف اسی پر اکتفا کی جاتی ہے کہ تحریک خلافت کے دوران آپ کے کردار اور ستخر یک شدھی کے دوران آپ کے کردار میں جو فرق نظر آتا ہے وہ یہی ہے کہ اگر چہ اس وقت آپ نے بر وقت تنبیہ اور نہایت قیمتی مشورے دے کر اپنے فرض کو ادا کر دیا۔لیکن حالات کچھ اس قسم کے تھے کہ عملی جدوجہد کے میدان میں ایک کامیاب جرنیل کے طور پر امت مسلمہ سے آپ کا تعارف نہ ہو سکا۔شدھی کی تحریک نے وہ موقع فراہم کر دیا اور آپ کو رب العزت سے یہ توفیق ملی کہ اپنے مشوروں کی صداقت اور قد و قیمیت کو عمل کے میدان میں بھی درست ثابت کر دکھائیں۔دنیا نے ایک نئے اندازہ فکر کے ساتھ عوامی جذبات اور جوشوں کی تسخیر ہوتی ہوئی دیکھی۔اس موقع پر ایک اور پہلو آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کا یہ سامنے آیا کہ ایسے وقت میں جبکہ جماعت شدید اقتصادی بحران کا شکار تھی آپ اس پر مزید مالی بوجھ ڈالنے سے نہ ہچکچائے بلکہ پے در پے ایسی تحریکات کیں جن کا پورا ہونا بظاہر محال دکھائی دیتا تھا۔کارزار شدھی ص۴۷ اه کارزار شدهی من