سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 314
۳۱۴ جس وقت حضرت خلیفہ ایسیج نے فتنہ ارتداد کے سدباب کے لئے جماعت احمدیہ کی طرف سے پچاس ہزار روپے کا وعدہ کیا ، مناسب ہوگا کہ جماعت کی اس وقت کی عمومی مالی حالت کا بھی کچھ جائزہ لے لیا جائے تاکہ کچھ اندازہ ہو سکے کہ اس وعدہ کی کیا حیثیت تھی۔آج کے معیار سے دیکھا جائے تو پچاس ہزار روپے کی رفتم ایک ایسی معمولی رقم ہے۔کہ جماعت احمدیہ میں متعدد ایسے افراد مل جائیں گے جو انفرادی طور پر تہی اس سے بہت زیادہ رقم خدمت دین کے لئے پیش کر سکتے ہیں اور کرتے رہے ہیں۔لیکن اس وقت کے حالات آج سے بالکل مختلف تھے۔اول تو اُس وقت اور آج کے روپے کی قیمت میں ہی زمین آسمان کا فرق ہے۔دوسر جماعت کی مالی حالت فی ذاتہ بھی بہت خراب تھی۔اور ذرائع آمد نہایت قلیل اور تحریک شدھی سے صرف ایک سال قبل یعنی مارچ ۱۹۲۳ء کی مشاورت کی رپورٹ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ باقاعدہ ایجنڈے پر یہ مسئلہ برائے غور پیش تھا کہ جماعت احمدیہ جس شدید مالی شجران میں سے گزر رہی ہے اس کا سد باب کیسے کیا جائے۔انجمن کی غربت کا عالم یہ تھا کہ کارکنوں کو تنخواہیں دینے کے لئے بھی پیسے موجود نہیں تھے کارکنوں کی کئی کئی ماہ کی تنخواہوں کا قرض انجمن پر چڑھا ہوا تھا اور انجمن کا قرضہ کم ہونے کی بجاے روز بروز خطرناک رفتار کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔جماعت اپنی شربت اور بے سروسامانی کے باوجود جس عالمگیر ملیہ اسلام کی جدوجہد میں مشغول تھی۔اس کے مالی تقاضے تمام تو پور کرنے تو در کنار ادتی ضرورتیں پوری کرنے کی بھی جماعت میں طاقت نہ تھی اور احمد می مبلغین نهایت درد ناک حالات میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ممالک بیرون میں مبلغ ہمار پڑے تو علاج کے لئے دوا تک کے پیسے نہ ہوتے تھے۔اس مالی بحران کے دوران جماعت احمدیہ کا سالانہ بجٹ جس طرح بنایا گیا۔اور سخت تنگی سے بنائے ہوئے بجٹ کے باوجود جماعت کو جن شدید مشکلات سے گزرنا پڑ رہا تھا ان کا ذکر حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مجلس شوری کی تقریر میں ان الفاظ میں کیا :۔ایک اور کمیٹی بٹھائی جس نے ۳۔۴ ہزار کی اور کسی کی پھر کیٹ میرے پاس آیا۔میں نے اس میں ۳۰ ہزار کی کمی کی مگر باوجود اس کے کہ اس قدر کمی کی اور لڑکوں کے وظائف میں اس قدر کمی کی، کہ اس سے کم نہیں ہو سکتی تھی۔اور باوجود اس کے کہ پہلے ہی جو تنخواہ