سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 306 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 306

۳۰ " ہوا تھا۔اُدھر قادیان کی ایک چھوٹی سی بستی میں ایک وجود اس غم میں گھلا جبار ہا تھا اور اپنے نفس کو بلاک کر رہا تھا کہ کاش یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام خود اپنے آقا کی ہتک اور گستاخی کا موجب بن رہے ہوں اور ایک ہندو آقا کے چرنوں پر اسلام کا سر جھکانے کو ہی اسلام کی سربلندی سمجھ رہے ہوں کبھی وہ ان کو غیرت کے کچھ کے دیتا۔کبھی شہر آنی تعلیم اُن پر آشکار کہتا۔کبھی سنت رسول سے آگاہ فرماتا اور کبھی تاریخ اسلام سے عبرت آموز واقعات پڑھ کر سناتا اور کبھی بعد منت اور کبھی پر شوکت انتباہات کے ساتھ کبھی خدا کے جلال سے ڈرا کر اور کبھی اس کے انعامات کی ترغیب دیتے ہوئے انہیں واپس صراط مستقیم یہ بلانے کے لئے کوشاں تھا۔وہ اس فکر میں شب و روز غلطان و پیچاں تھا کہ کاش اب بھی مسلمان کی آنکھ کھلے اور وہ حقیقت حال دیکھنے اور سمجھنے کا اہل ہو سکے۔مگر صد حیف کہ ایسا نہ ہونا تھا اور نہ ہوا۔جنوب مشرق سے شمال مغرب کی سمت چلنے والی باد سموم کتنے ہی نونہالوں کو اپنے ساتھ اُڑا لے گئی۔کابل چلو" کا شور بلند سے بلند تر ہوتا چلا گیا۔مسلمان عوام کے قافلے وطن مالون کو چھوڑ کر کابل کی طرف روانہ ہونے لگے۔ہجرت ہوتی رہی۔گھر لٹتے رہے۔عمر بھر کی پونجیاں برباد ہوتی رہیں مسلمان کی دولت ہندو کی ایسی امانت نبتی رہی جسے کبھی واپس لوٹ کر نہ آنا تھا۔مسلمان بچے تعلیم سے دل برداشتہ ہو کر گلیوں میں آوارہ پھرنے لگے۔مسلمان وکلاء عدالتوں سے دست کش ہو گئے اور ہندو ان کا خلاء پر کرنے لگے۔مسلمان ملازمتوں سے مستعفی ہونے لگے تو ہندو آگے بڑھ بڑھ کر اپنے نام خدمت انگریز کے لئے پیش کرنے لگے۔کیفیت یہ تھی کہ ایک مسلمان ملازمت سے استعفیٰ دیتا تو دس ہندوؤں کی درخواستیں اس کو ٹیر کرنے کے لئے آپہنچتیں پُر لیکن صد حیف کہ وہ سادہ لوح مخلص مسلمان جن کو دین اور شریعت کا ذاتی علم کچھ نہ تھا مسلمان علماء کے فتووں پر ایمان لاتے ہوئے جب سب کچھ لٹا کر افغانستان پہنچے تو ان کا استقبال پھول نچھاور کر کے یا ہار پہنا کر نہیں کیا گیا۔کسی نے دف بجا بجا کر ان کی آمد پر تہنیت کے گیت نہیں گائے۔افسوس صد افسوس کہ ان لئے ہوئے خستہ حال مخلصین پر کابل کے دروازہ سے بند کر دیئے گئے۔اور وہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد اس حال میں اپنے وطن کو توٹے کہ کئی تن کے کپڑوں سے بھی محروم ہو چکے تھے اور کئی سفر کی صعوبتوں سے راستہ ہی میں دم توڑ گئے اور پھر ان کو اپنا وطن دیکھنا نصیب نہ ہوا۔بہت سے جو واپس آئے