سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 299
۲۹۹ کی طرف منسوب کرنا اور آیات قرآنیہ سے اس کا استدلال کرنا ایک خطرناک گناہ ہے۔اگر ترک موالات کے حامی اسے شریعت کا فرض مقرر کرتے ہیں تو پھر اس طرح عمل کریں جس طرح کہ شریعت نے کہا ہے اور اگر اسے مسٹر گاندھی کا ارشاد قرار دیتے ہیں، تو عوام کو قرآن کریم کے نام سے دھوکا نہ دیں اور اسلام کا تفتخر نہ اڑائیں یا قرآن کریم کی متعدد آیات سے استدلال کرنے کے علاوہ آپ نے احادیث نبویہ سے بھی متعدد استدلال کئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشاداتِ عالیہ غلط رنگ دے کر پیش کئے جارہے تھے اُن کے اصل معانی بڑے دل نشین پیرا یہ میں بیان فرمائے۔پھر ایک دوسرے موقع پر مسٹر گاندھی کی اقتداء کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آپ نے حسب ذیل الفاظ میں مسلمانوں کی دینی حمیت کو جھنجوڑا :- مذہبی معاملہ میں مسلمان مسٹر گاندھی کی اقتداء میں کیا تم کو یہ نظر نہیں آتا کہ تم اس صحیح راستہ کو ترک کر کے کہاں کہاں دھکے کھاتے مید کرتے ہو ؟ اول تو تمام علماء و فضلاء کو چھوڑ کر ایک غیر مسلم کو تم نے لیڈر بنایا ہے۔کیا اسلام اب اس حد تک گر گیا ہے کہ اس کے ماننے والوں میں سے ایک روح بھی اس قابلیت کی نہیں ہے کہ اس طوفان کے وقت میں اس کشتی کو بھنور سے نکالے اور کامیابی کے کنارے تک پہنچائے۔کیا اللہ تعالے کو اپنے دین کی اس قدر غیرت بھی نہیں رہی کہ وہ ایسے خطرناک وقت میں کوئی ایسا شخص پیدا کر دے جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا شاگرد اور آپ کے خدام سے ہو ؟ اور جو اس وقت مسلمانوں کو اس راستہ پر چلاتے جو ان کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے ؟ آہ ! تمھاری گستاخیاں یہ کیا رنگ لائیں ؟ پہلے تو تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسیح ناصری کا ممنون بنت بنایا کرتے تھے اب مسٹر گاندھی کا مرہونِ احسان بناتے ہو ؟ اگر یہ درست ہے کہ ترک موالات سے ایک دو سال میں تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاؤ گے۔اے ترک موالات اور احکام اسلام نے ۵۹-۵۸