سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 300
تو اسلام کی دوبارہ زندگی یقینا مسٹر گاندھی کے ہاتھوں میں ہو گی اور نعوذ باللہ من ذالک ابد الآباد تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بایہ احسان سے اُن کے سامنے جھکا رہے گا۔کیونکہ مسٹر گاندھی نے آپ سے کچھ نہیں لیا اور آپ گویا سبھی کچھ مسٹر گاندھی کی عطا سے پائیں گے۔اے کاش! اس خیال کے دل میں آنے سے پہلے تم نے اس دل ہی کو کیوں نہ نکال کر باہر پھینک دیا ؟۔تم نے خدا کے محبوب کو حضرت مسیح علیہ السلام کا احسان مند بنا کر اس کی گردن اس کے سامنے جھکائی سکنی خدا نے تمھاری گردنوں کو ہر جگہ مسیحیوں کے آگے جھکا دیا ہے۔میں یہ جو کچھ ہوا ہے تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا نمثرہ ہے۔اب تم دوسری غلطی کرنے لگے ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسٹر گاندھی کا ممنون احسان بنانے لگے ہو۔حضرت مسیح علیہ السّلام تو خیر ایک نبی تھے۔اب جس شخص کو تم نے اپنا مذہبی رہنما بنایا ہے وہ تو ایک مومن بھی نہیں۔پس محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی اس بنک کا نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ سخت دیکھو گے اور اگر باز نہ آئے تو اس جرم میں مسٹر گاندھی کی قوم کی غلامی اس سے زیادہ تم کو کرنی پڑے گی جتنی کہ حضرت مسیح علیہ السّلام کی امت کی غلامی تم غلامی تم کہتے ہو کہ نہیں کرنی پڑی ہے کا مسلہ اس کتاب میں آپ نے دوبارہ مسلمانوں کی توجہ اس مرکزی نقطہ کی طرف مبذول که والی کہ مسلمانوں کی مشکلات کا واحد حل تبلیغ اسلام ہے۔مسلمانوں پر مبنی مصیبتیں ٹوٹیں تبلیغ نہ کرنے کے نتیجہ میں ٹوٹیں اور جو عالی مراتب انہوں نے حاصل کئے وہ ان کی تبلیغی کوششوں ہی کا ثمرہ تھا۔چنانچہ عارضی اور سطحی باتوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ان کی توجہ اس بنیادی حقیقت کی طرف پھیری کہ جب تک تم تبلیغ کا جہاد شروع نہیں کرو گے تمہاری کھوئی ہوئی عظمت تمھیں کبھی نہیں مل سکتی۔تبلیغ کی طرف مسلمانوں کو ایک نئے انداز سے بلاتے ہوئے آپ نے لکھا :- لے ترک موالات اور احکام اسلام هشت ۸۷