سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 285
۲۸۵ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ رفتم فرماکر رات ہی رات میں اسے طبع کر وایا اور اگلے روز علی الصبح آپ کا نمائندہ وفد یہ تحریری پیغام لے کر کانفرنس میں شمولیت کے لئے الہ آباد پہنچ گیا۔اپنے گذشتہ تجربے کی بناء پر حضرت خلیفہ ایسی الثانی رضی اللہ عنہ نے اس مضمون کو بڑے دکھی دل کے ساتھ تحریر کیا۔یہ ضمون لکھتے وقت بھی آپ کو یہ احساس تھا کہ کوئی ان باتوں پر کان نہیں دھر گیا اور یہ یمتی مشورے ضائع جائیں گے۔لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی غیر معمولی ہمدردی اور احساس فرض آپ کو مجبور کر رہا تھا کہ شامل اجلاس راہ نماؤں کی خدمت میں حق بات بہر حال پہنچا دی جائے۔آپ نے فرمایاہ۔اے احباب کرام !میں نے ستمبر گزشتہ کے اجتماع کے وقت تحریر کے ذریعہ سے آپ لوگوں کو توجہ دلائی تھی کہ دولت عالیہ عثمانیہ کے مستقبل کے متعلق جدو جہد کی بنیاد اس امر پر رکھنی چاہیے کہ سلطان ترکی کثیر حصہ مسلمانان کے نزدیک خلیفہ ہیں۔اور باقی تمام مسلمان بھی بوجہ ان کے اسلامی بادشاہ ہونے کے ان سے ہمدردی رکھتے ہیں اس لئے ان سے معاہدہ صلح کرتے وقت تمام عالم کے مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جائے اور ان سے انہی اصول کے ماتحت معاملہ کیا جاوے جن کے ماتحت دوسری مسیحی حکومتوں سے معاملہ کیا گیا ہے۔اور میں نے بتایا تھا کہ اس طریق پر تمام وہ فرقے جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں قطع نظر اس کے کہ ان کا آپس میں کیسا ہی اختلاف ہو اس معاملہ میں اکٹھے ہو سکیں گے لیکن افسوس کہ اس وقت آپ لوگوں کو میرا مشورہ پسند نہ آیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کو یہ بات کہنے کا موقع ملا کہ خلافت عثمانیہ سے متعلق مسلمانوں کی آوازہ ایک نہیں اور اس لئے یہ کہنا کہ ترکوں کے متعلق تمام مسلمانوں کی ایک رائے ہے درست نہیں۔اگر میرا مشورہ اس وقت تسلیم کیا جاتا تو احمدیہ جماعت کو خلافت کے مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات کے اظہار کی کوئی ضرورت پیش نہ آتی۔اور وہ ترکوں کے لئے انصاف کا جائزہ طور پر مطالبہ کرتے ہیں اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ شامل ہو سکتی تھی۔