سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 258

FOA سورۂ فاتحہ کی تفسیر سکھائیں۔میں نے کہا ہاں سکھائیے۔اس رویاء کا بھی عجیب نظارہ تھا۔یہ شروع اس طرح ہوئی کہ پہلے مجھے ٹن کی آواز آئی اور پھر وہ پھیلنے لگی۔اور پھیل کر میدان بن گئی۔اس میں سے مجھے ایک شکل نظر آنے لگی جو ہوتے ہوتے صاف ہو گئی اور میں نے دیکھا کہ فرشتہ ہے۔اس نے مجھے کہا تمھیں علم سکھاؤں۔میں نے کہا سکھاؤ اس نے کہا لوسوہ فاتحہ کی تفسیر سیکھو۔اس پر اُس نے سکھانی شروع کی۔اور اياك نعبد پر پہنچ کر کہا سب نے اسی حد تک تفسیریں لکھی ہیں۔اے میں لکھیں۔میں بھی اُس وقت سمجھتا ہوں کہ ایسا ہی ہے۔پھر اس نے لیا مگر مکیں تھیں اس سے آگے سکھاتا ہوں۔چنانچہ اس نے ساری شورہ فاتحہ کی تفسیر سکھائی۔اور میری آنکھ کھل گئی۔اس وقت مجھے اس کی ایک دو باتیں یاد تھیں جن کی نسبت اتنا یاد ہے کہ نہایت لطیف تھیں۔مگر دوبارہ سونے کے بعد جب میں اُٹھا تو وہ بھی بھول گیا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کو جب میں نے یہ رو یاد منائی تو آپ بہت ناراض ہوئے کہ کیوں اسی وقت لکھ نہ لی ؟ جو کچھ سکھایا گیا تھا اُسے اسی وقت لکھ لینا چاہیے تھا۔اس دن کے بعد آج تک میں سورہ فاتحہ پر کبھی نہیں بولا کہ مجھے اس کے نئے نئے نکات یہ سمجھائے گئے ہوں میں سمجھتا ہوں یہ اسی علم کی وجہ سے ہے جو مجھے سکھایا گیا۔ایک دفعہ مجھے اس علم کا خاص طور پر تجربہ ہوا۔ہمارے سکول کی کیم امرت سر کھیلنے کے لئے گئی۔میں اس وقت اگر چہ سکول سے نکل آیا تھا لیکن مدرسہ سے تعلق تھا کیونکہ میں نیا نیا نکلا تھا اس لئے میں بھی ساتھ گیا۔وہاں ہمارے لڑکے جیت گئے۔اس کے بعد وہاں مسلمانوں نے ایک جلسہ کیا۔اور مجھے تقریرہ کرنے کے لئے کیا گیا۔جب ہم اس جلسہ میں گئے تو راستہ میں مکیں ساتھیوں کو سناتا جا رہا تھا کہ خدا تعالے کا میرے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جب بھی یکیں سورہ فاتحہ پہ نظریہ کہوں گانٹے نکات