سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 238 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 238

۲۳۸ ول۔کہتا ہوں اس کی وہی وجہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب لوگ جانتے ہیں کہ جب تک کسی کام کے لئے صبح کوشش نہ کی جائے اس وقت تک وہ حاصل نہیں ہوسکتا نہیں جب دنیاوی امور میں یہ قانون چلتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ روحانی امور میں بھی یہی قانون نہ چلے کیا ہے اس کے بعد عرفانِ الہی کے حصول کے ذرائع پر بحث کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ عرفان اللہی در حقیقت صفات الہیہ کو اختیار کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔آپ نے فرمایا :- دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے مادی اعضاء جن چیزوں کو چھوتے ہیں دہ مادی ہی ہوتی ہیں اور جتنا جتنا مادہ اشیاء میں کم ہوتا جاتا ہے وہ اتنی ہی کم محسوس ہوتی ہیں وجہ یہ ہے کہ جب تک دو چیزوں یا مشارکت نہ ہو اس وقت تک ان کا آپس میں تعلق نہیں پیدا ہو سکتا۔مثلاً بھینس اور علوم میں کسی قسم کی مشارکت نہیں۔اب اس کے سامنے فلسفہ بیان کیا جائے تو کبھی نہیں سمجھ سکے گی۔اسی طرح طوطے میں گو زبان کی مشارکت ہے لیکن عقل کی مشارکت نہیں رکھتا اس لئے آوازہ کی نقل کو اتار لیتا ہے لیکن کوئی بات سمجھ نہیں سکتا۔اس سے معلوم ہوا کہ عرفانِ الہی کے لئے مشارکت اور مناسبت کا ہونا ضروری ہے اور خدا کا عرفان اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جبکہ خدا سے مشارکت پیدا ہو جائے اور خدا کی صفات انسان کے اندر آجائیں۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور اللہ تعالے کے اخلاق سے مراد اس کی صفات ہیں " پھر یہ سوال اُٹھایا کہ : یہ نکتہ تو معلوم ہو گیا کہ عرفان الہی حاصل کرنے کے لئے خدا کی صفات حاصل کر لینی چاہئیں لیکن یہ بھی تو معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی صفات حاصل کس طرح ہو سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس کے لئے سب سے پہلی ضروری بات یہ ہے کہ انسان کو خدا تعالے کی صفات کا علم ہو یہ نہ سمجھو ت عرفان الهی صدا