سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 237
له مثلاً ایک ایسا شخص ہو جسے جنگل میں قید کر دیا گیا ہو اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھے دیئے گئے ہوں۔اب چونکہ یہ شخص عمل کر ہی نہیں سکتا، اس کے لئے محض دعا کرتا ہی کافی ہے لیکن جب اس قسم کی روکیں نہ ہوں اس وقت دُعا کے ساتھ عمل کا ہونا ضروری ہوتا ہے ، اے پھر اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ بعض اوقات دعا اور عمل کے باوجود خدا نہیں ملتا۔آپ نے فرمایا :- اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی ان دونوں باتوں سے کام لیتا ہے یعنی دعا بھی کرتا ہے اور کوشش بھی تو پھر کیوں خدا نہیں حاصل ہوتا اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی کوشش صحیح کوشش نہیں ہوتی۔وہ کوشش کرتا ہے لیکن صحیح کوشش نہیں کرتا اور کامیابی کے لئے شرط یہ ہے کہ کوشش کی جائے اور صحیح طریقہ سے کی جائے۔مثلاً ایک طالب علم جو مدرسہ میں پڑھنے کے لئے جاتا ہے اس کے لئے ضروری ہے ، کتابیں خریدے اور انہیں پڑھے لیکن اگر وہ کتابیں تو نہ پڑھے اور سارا وقت دعائیں کرتا رہے کہ مجھے علم حاصل ہو جائے تو کیا اُسے علم حاصل ہوتی ہیگا ہرگز نہیں۔یا کیا اگر وہ سارا دن اُلٹا لٹکا رہے یا اپنے جسم کو سوئیاں مارتا رہے اور سمجھے کہ میں بڑی مشقت کر رہا ہوں اس لئے پاس ہو جاؤنگا تو وہ پاس ہو جائے گا ؟ ہر گز نہیں ہے جائے پھر بعض متفرق اعتراضات کے جوابات دیئے مثلاً یہ کہ : لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں تنگ ظرفی پائی جاتی ہے کیونکہ اسلام کہنا ہے کہ میرے سوا اور کوئی مذہب حق پر نہیں ہے حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ کہا جاتا کہ ہر نہ مہب پر چلنے والا انسان سنجات پاسکتا ہے۔تعجب ہے کہ یہ اعتراض کرنے والے قانونِ قدرت کی طرف نہیں دیکھتے۔کہ اس کے ہر ایک کام میں کیا نتیجہ نکل رہا ہے۔وہ کہتے ہیں جب ایک ہندو ایک عیسائی ایک آریہ کے دل میں خدا کی محبت ہے اور وہ حندا کو پانے کی کوشش بھی کرتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے وہ خدا کو نہ پائے ہیں ه عرفان اللي صدا ه عرفان اللى ما - ۲۰