سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 235

۲۳۵ نظر سے پہلے کبھی نہیں گرتا ہو گا۔سچ تو یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد کی جس قدر اسلامی تاریخوں کا مطالعہ کیا جائے گا اسی قدر مضمون سبق آموز اور قابل قدر معلوم ہوگا یہ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے آپ کی تقریر کا موضوع اسلام میں اختلافات کا آغاز تھا اس انتہائی ادق، مشکل اور الجھے ہوئے مضمون پر آپ نے بڑی شرح وبسط کے ساتھ روشنی ڈالی اور بہت سے اُلجھے ہوئے تاریخی عقدوں کو ایسی عمدگی کے ساتھ حل فرما دیا کہ تاریخ کے بڑے بڑے اساتذہ بھی انگشت بدنداں رہ گئے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اس کے مخفی در مخفی اسباب پر سے پردہ اُٹھاتے ہوئے آپ نے فقہ کے اصل سرغنوں کو بے نقاب کیا اور ثابت فرمایا کہ دراصل اس فتنے کی طنابیں بعض شر انگیز بود کے ہاتھ میں تھیں۔صحابہ کرام ہر گز اس میں ملوث نہ تھے بلکہ بعض غیر تربیت یافتہ نئی نسل کے نوجوانوں اور دور دراز علاقوں کے رہنے والے نو مسلموں کو آلہ کار بنایا گیا تھا۔افسوس ہے کہ اس مضمون کی وسعت اور ترتیب اجازت نہیں دیتی کہ نمونہ چند اقتباسات پیش کئے جائیں یہ ایک مسلسل مضمون ہے جو بہت سی کڑیوں پر یشتمل ہے جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔اور کسی ایک کو علیحدہ پیش کرنے سے مفہوم تشنہ رہ جاتا ہے اور حقیقت حال پوری طرح مجھ میں نہیں آسکتی لہذا دلچسپی رکھنے والے قارئین کو اس پورے مضمون کا مطالعہ کرنا چاہیئے جو بارہا جماعت احمدیہ کی طرف سے کتابی صورت میں شائع کیا جاچکا ہے۔عرفان الہی جماعت احمدیہ قادیان کا وہ جلسہ سالانہ جو سائے میں انفلوئنزا کی عالمگیر و بار کے باعث منعقد نہیں ہو سکا تھا۔ماریچ 1919 میں منعقد ہوا۔اس جلسہ پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی علمی تقریر عرفان الہی کے موضوع پر تھی۔بیماری کے نتیجہ میں آپ بہت کمزور ہو چکے تھے اور تقریر بھی اس حال میں کرنے کے لئے آئے کہ سر میں شدید درد تھا اور بات کرنی مشکل نفتی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا حساس دل عطا فرمایا تھا کہ دُور دُور سے آنے والے مہمانوں کو مایوس کرنا گوارا نہ کیا اور اسی حالت میں تقریر کے لئے چلے آئے۔مضمون نہایت مشکل تھا اور سامعین میں ناخواندہ دیہاتیوں سے لے کر نہایت اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ احباب تک شامل تھے پھر احمدی ہی نہیں کثرت سے غیر از جماعت دوست بھی اس نوجوان خلیفہ کی علمی قابلیت کا شہرہ اے مہیڈ اسلام میں اختلافات کا آغاز