سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 19
۱۹ کو ایسی بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ اگر طوالت کا خوف مانع نہ ہوتا تو اس موقعہ پر اسے من و عن پیش کر دیا جاتا مگر فی الوقت اسی پر اکتفا کی بجھاتی ہے۔کہ قارئین کے سامنے اس کے چند اہم اقتباس پیش کر دیئے جائیں۔میرا مذہب یہ ہے لا خلافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ خلافت جائز ہی نہیں جب تک اس میں شوری نہ ہو۔اسی اصول پر تم لوگوں کو یہاں بلوایا گیا ہے-" (ص ) راد میں دیکھتا ہوں کہ چاروں طرف سے محض دین کی خاطر اسلام کی عزت کے لئے اپنا روپیہ خرچ کر کے اور اپنے وقت کا خرج کر کے احباب آئے ہیں۔میں جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالے میرے مخلص دوستوں کی محنت کو ضائع نہیں کرے گا وہ بہتر سے بہتر بدلہ دے گا ؟ ان دوستوں کو دیکھا تو میرا دل خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر سے بھر گیا۔پھر میرے دل میں اور بھی جوش پیدا ہوا جب لیکس نے دیکھا کہ وہ میرے دوستوں کے ہوانے ہی پر جمع ہو گئے ہیں۔اس لیئے آج رات کو میں نے بہت دعائیں نہیں اور اپنے رب سے یہ عرض کیا کہ الہی میں تو غریب ہوں میں ان لوگوں کو کیا دے سکتا ہوں۔حضور آپ ہی اپنے خزانوں کو کھول دیجیئے اور ان لوگوں کو جو محض دین کی خاطر یہاں جمع ہوئے ہیں اپنے فضل سے حصہ دیجیئے"۔پھر میں نے اس کے حضور دعا کی کہ میں ان لوگوں کے سامنے کیا کہوں ؟ تو آپ مجھے تعلیم کر اور آپ ؟ در آپ مجھے سمجھا۔۔۔۔۔۔اس نے میرے قلب کو اسی آیت کی طرف متوجہ کیا اور مجھ پر ان رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (سورة بقره آیت ۳)