سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 18
خلیفة المسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ثانی " درج کئے جاتے ہیں۔لہذا اس ترمیم کے بعد قاعدہ نمبر ۸ ا کا پورا متن اس طرح پر ہو گا :- مہر ایک معاملہ میں مجلس معتمدین اور اس کی ماتحت مجلس یا مجالس اگر کوئی ہوں اور صدر انجمن احمدیہ اور اس کی کل شاخھائے کے لئے حضرت خلیفہ اسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ثانی کا حکم قطعی اور ناطق ہوگا۔" سی کانفرنس سفارش پر جماعت سے مشورہ کے بعد مجلس معتمدین نے ۲ در اپریل ۱۹۱۴ء کو اُسے باضابطہ صدر انجمن کے دستوری ترم کی صورت میں داخل کیا۔یہ فیصلہ نظام خلافت کی ایک عظیم الشان فتح تھی۔اور اس کا ہمیشہ کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی روحانی جانشینی کا سوال حل ہو گیا۔اس کا نفرنس کی دوسری اہمیت یہ تھی کہ اس نے آئندہ جماعت احمدیہ میں نظام شوری کی بنیاد ڈالی اور اس مسئلہ کو خوب اچھی طرح واضح کر دیا کہ خلیفہ وقت کے مقابل پر مجلس شوری کی کیا حیثیت ہے اور خلیفہ وقت اور مجلس شوری کا باہمی تعلق کن اسلامی اصولوں پر استوار ہے۔تیسرا اہم فائدہ اس کا نفرنس سے یہ ہوا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس کا نفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنی وہ تاریخی تقریر فرمائی جس میں جماعت کے لئے ایک عظیم الشان اور وسیع لائحہ عمل کا ڈھانچہ پیش کیا۔خلافت اور نبوت کے باہمی تعلق کو واضح کیا خلافت کے کاموں کی تعیین کی اور ان حدود کو واضح کیا جن کے اندر رہتے ہوئے ایک رُوحانی خلافت اپنے فرائض کو سر انجام دیتی ہے۔پھر ان فرائض کو واضح کیا جو تبعیت خلافت کے نتیجے میں جماعت مبائعین پر عائد ہوتے ہیں۔اس تقریر کو آپ کے لٹریچر اور علم کلام میں ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔حضرت مسیح موعود یہ السّلام نے اپنی ابتدائی تصنیف " فتح اسلام میں اسلام کے احیائے نو اور ترقی کی جس عمارت کا خاکہ کھینچا تھا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس خاکے میں رنگ بھرے اور خطوط کو مزید واضح اور اُجاگہ کیا یہاں تک کہ جماعت احمدیہ کے لئے اس چھوٹی سی تقریرہ میں گویا ایک ہزار سالہ منصوبہ پیش کر دیا گیا۔اس تقریبہ