سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 224

۲۲۴ بتایا کہ ایک مچھلی پکڑی جاتی ہے۔بہر حال حضرت صاحب نے فورا پوچھا کہ چھوٹی تھی یا بڑی۔نعیم احمد شاہ صاحب نے جواب دیا چھوٹی تھی۔آپ نے پوچھا۔تم نے کوئی امتحان دیا ہوا ہے تو انہوں نے جواب دیا۔جی میں ابھی امتحان دے کر آرہا ہوں۔آپ نے فرمایا تم فیل ہو جاؤ گے حضور کا یہ جواب شنکر نعیم احمد شاہ صاحب کا رنگ فق ہو گیا لیکن ہوا یہی۔کہ وہ اس امتحان میں فیل ہو گئے۔بعد ازاں میں نے حضور سے سوال کیا کہ آپ کو اس خواب سے کس طرح تبہ لگا، کہ نعیم فیل ہو جائے گا تو آپ نے فرمایا۔خوابوں کی تعبیر اس کے موقع اور محل کے مطابق کی جاتی ہے بڑی مچھلی نے حضرت یونس علیہ السّلام کو نگلا تھا لیکن زندہ اُگل دیا جس کا مطلب ہے کہ ایسا غم آیا جو گذر گیا لیکن چھوٹی مچھلی جو چیز نگل جائے اس کو اگلا نہیں کرتی۔ایک طالب علم کی زندگی میں خوشی و غم کا ایک خاص موقع امتحان میں کامیابی یا ناکامی کے وقت پیدا ہوتا ہے اس لئے مجھے خیال آیا کہ شاید یہ کوئی امتحان دے کر آیا ہے جس میں یہ کامیاب نہیں ہوگا۔جہاں تک میں نے دیکھا ہے مچھلی کی تعبیر غم کے طور پر مجھے کسی اور جگہ نہیں ملی۔عام طور پر تعبیر الرویاء کی کتابوں میں نعمت۔مال دولت اور فائدے کی چیز وغیرہ بیان کی جاتی ہے۔حضرت صاحب کی یہ نئی تعبیر کرنا کسی ظاہری علم کے نتیجہ میں مکن نہیں تھا بلکہ یقینا یہ اللہ تعالے کی طرف سے کوئی خاص روحانی ملکہ تھا جس کے نتیجہ میں آپ ملائک کی رہنمائی میں تعبیر فرمایا کرتے تھے۔تعبیر الرویاء کے سلسلہ میں چند اور واقعات پیش کئے جاتے ہیں جن کے مطالعہ سے معلوم ہوگا کہ حضور کو علم تعبیر بر کیسی زبردست دسترس حاصل تھی۔کوئی ماسٹر عبدالکریم توسلم جو گذشتہ سال فوت ہوئے ہیں انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی یادوں سے متعلق جو تحریری بیان داخل کیا اس میں دو خوابوں اور ان کی تعبیر کا بھی ذکر ملتا ہے یہ دونوں خوا ہیں اس زمانہ کی ہیں جب ابھی یہ ہندو ہی تھے اور اسلام قبول کرنے کی توفیق نہیں ملی تھی۔وہ لکھتے ہیں : مجھے خواب آئی کہ دو شخص مجھے ملے ہیں ایک مجبتہ والا بڑا بزرگ جنہوں نے شرعی پاجامہ پہنا ہوا تھا سر پر پگڑی تھی۔دوسرے بزرگ اُن سے قدمیں چھوٹے تھے۔بڑے قد والے بزرگ نے مجھ سے کہا کہ اگر تم ان کو مان لو گے تو تمہارے لئے اچھا ہے" ان کی یہ خواب حضرت مولوی عبداللہ صاحب سفوری رضی اللہ عنہ نے حضرت خلیفہ اساسی یانی