سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 216
نام و نشان نہیں ہوتا۔اس کے متعلق یہی مثال دیکھ لو کہ اس علم کے تدیوں نے قیصر کے معزول ہونے کی خواب اس وقت دیکھ کر میں کوئی کی جب لڑائی شروع ہو چکی تھی۔مگر حضرت مرزا صاحب نے عمر زار بھی ہوگا تو ہوگا اُس گھڑی باحال زار کی پیشگوئی اس وقت کی جب کہ لڑائی کا کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا۔تو یہ ایک بہت بڑا فرق ہوتا ہے رحمانی اور شیطانی خواب میں۔رحمانی خواہیں ان امور کے متعلق ہوتی ہیں جن کے اُن کے دکھانے کے وقت کوئی آثار نہیں ہوتے بلکہ اُن کے خلاف لوگوں کے خیالات ہوتے ہیں مثلاً قرآن کریم میں بتایا گیا تھا کہ نہر سویز نکالی جائے گی۔چنا نچہ سورہ رحمن میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيْنِ ، بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا يَبْغِينِ فَبِاي اللَاء رَبِّكُمَا تُكَذِينِ ، يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللولو و الْمَرْجَانُ۔زهه : ۲۰تا۲۳) کہ اسے انسانو اور جو بینی بڑے اور چھوٹے لوگو سنو ! خدا نے اس وقت دو سمندر ایسے چھوڑے ہوئے ہیں جو ایک وقت آئے گا کہ آپس میں بل جائیں گے یعنی اُن کے درمیان کی خشکی دور ہو جائے گی اور دونوں سمندروں کے پانی اکٹھے ہو جائیں گے اور ایک سمندر سے دوسرے سمندر تک سمندر ہی کے ذریعے جاسکیں گے۔اب سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ کون سے سمندر ہیں جن کے ملنے کی خبر دی گئی ہے تو اس کا جواب یہ دیا کہ يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللولو وَ الْمَرْجَانُ کہ دونوں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے۔اب جغرافیہ میں دیکھ لو کہ وہ کون سے دوسمندر ہیں کہ جن میں سے ایک میں موتی اور دوسرے میں سے مونگا نکلتا ہے اور جن دونوں کے درمیان ایک چھوٹی سی خشکی واقع تھی کہ جس کی وجہ سے ایک کا پانی دوسرے کے پانی سے نہیں مل سکتا۔جغرافیہ بالاتفاق کہے گا کہ یہ دونوں سمندر بحیرہ احمر اور بحر قلزم ہیں۔کہ