سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 217 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 217

۲۱۷ اول الذکر اپنے قیمتی موتیوں کی وجہ سے مشہور ہے اور ثانی الذکر مونگے کی وجہ سے پس اس علامت سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ اس آیت میں بحیرہ احمر اور بحیرہ قلزم مراد ہیں۔اور قرآن کریم نے آج سے تیرہ سو سال پہلے ان دونوں کے ملنے کی خبردی ہے اور گوان کا نام نہیں لیا مگر ایسی علامتیں بتا دی ہیں جن کے ذریعہ سے ان کے معلوم کرنے میں کوئی روک نہیں رہتی۔چنانچہ ایک علامت تو میں ابھی بنا چکا ہوں۔دوسری یہ ہے۔وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشئتُ فِي الْبَحْرِ كَا لا ملا یہ کہ خدا تعالے کی طرف سے ان سمندروں میں بڑے بڑے جہاز کھڑے کئے جائیں گے۔اب دیکھ لو دنیا میں سب سے زیادہ جہازات نہر سویز ہی سے گزرتے ہیں۔غرض یہ باتیں بہت ہی قبل از وقت بتا دی گئیں۔کیا کوئی انسانی عقل اور قیاس ہے جو ایسا کر سکے۔ہرگز نہیں " (حقیقة الرویا ۳ تا ۳۵ )۔ایک اور علامت پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔ان کے امتیاز کی ایک اور بھی علامت ہے اور وہ یہ کہ شیطانی خواہیں کئی باتوں سے مرکب نہیں ہوتیں بلکہ مفرد ہوتی ہیں اور مرکب بات کا ہی قبل از وقت بتانا مشکل ہوتا ہے۔مثلاً قیاس کر کے یہ تو کہا جاتا ہے کہ زید آئے گا اور ممکن ہے کہ وہ آ بھی جائے لیکن اگر کہا جائے کہ زید آئے گا اس کے سر پر فلاں قسم کی پگڑی ہوگی۔پائجامہ ایس اپنے ہوگا تو یہ قیاس نہیں ہو سکتا۔تو ان لوگوں کی خوا ہیں بسیط ہوتی ہیں اور قیاس بسیط کبھی پورا بھی ہو جاتا ہے اور مرکب ہوں اور کبھتی پوری ہو جائیں تو پھر ان کا صرف ایک جزو ہی پورا ہوتا ہے اور باقی غلط ہو جاتے ہیں۔مگر رحمانی خوابیں مرتب ہوتی ہیں اور اُن میں بنائی ہوئی ساری کی ساری باتیں پوری ہو جاتی ہیں۔اس کی مثال حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبد الحمی مرحوم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی پیشگوئی ہے۔مسیح موعود علیہ السّلام نے خبر دی کہ مولوی صاحب بے سوره رحمن آیت ۲۵