سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 214
۲۱۴ بجائے اسلام کی تائید میں ایک نئے ظاہر ہونے والے نشان کے طور پر پیش کیا نے فرمایا کہ اگر نئی تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ انسانی دماغ کے بعض حصے ہوتے ہیں جو بعض تصورات کو واقعات کے رنگ میں دیکھ لیتے ہیں اور سوئے ہوئے آدمی پر بعض بیرونی محرکات مثلاً چھاتی پر بوجھے پڑنا۔پاؤں کا بے حس ہو جانا۔سردیوں میں کپڑے کا اُوپر سے اُتر جانا وغیرہ بعض مخصوص خواہیں دکھانے کا موجب بن جاتے ہیں تو یہ تحقیق نہ صرف یہ کہ قرآنی دعوئی کے خلاف نہیں بلکہ قرآن کی تائید میں ایک سائنسی انکشاف کی حیثیت رکھتی ہے۔قرآن کا تو پہلے ہی یہ دعوئی ہے کہ بعض خوا ہیں اضغاث احلام ہوتی ہیں یعنی لغو احادیث نفس ہوتی ہیں جن کا خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر ان کے وجود سے ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ بعض دوسری قسم کی خواہیں آہی نہیں سکتیں۔اس مضمون کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ زید بول سکتا ہے تو کیا یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ عمر و نہیں بول سکتا۔ہر گز نہیں۔اسی طرح اس بات کے ثابت ہو جانے سے کہ خواہیں مادی اسباب کی بناء پر بھی ہوتی ہیں یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ خدا کی طرف سے کلیہ ہوتی ہی نہیں۔اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ کا ذہن بعض ایسے خطرات کی طرف منتقل ہو گیا جو اس ضمن میں آئندہ جماعت کو پیش آسکتے تھے اور آپ کا یہ ذہنی انتقال آپ کے عظیم تدبیر اور فکر کو ظاہر کرتا ہے کہ کسی طرح آپ بظا ہر چھوٹی پھوٹی باتوں پر غور کرتے ہوئے مستقبل میں رونما ہونے والے عظیم خطرات کو بھانپ لیا کرتے تھے۔آپ فرماتے ہیں:۔قرآن کریم کہتا ہے کہ کسی خواہیں ہوتی ہیں اور وہ شیطانی ہوتی ہیں کوئی انسان جب یہ خواہش کرتا ہے کہ میں بھی نبیوں کی طرح خوا ہیں دیکھوں تو شیطان اس کی اس خواہش کو دیکھ کر اس سے تعلق پیدا کر لیتا ہے اور اُسے شیطانی خوا میں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔میں نے اس جماعت کے متعلق بڑا مطالعہ کیا ہے جس سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ہماری جماعت کے راستہ میں ہندوستان اور یورپ میں اگر کوئی روک پیدا ہوگی تو اسی قسم کے لوگ ہوں گے اور اُن کا مقابلہ بہت مشکل کام ہو گا کیونکہ وہ بھی اسی بات کے تدعی ہوں گے